مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ حَبْسِ الشَّمْسِ لَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: سورج کا نبی اکرم ﷺ کے لئے رک جانا
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَكَادُ يُغْشَى عَلَيْهِ ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَهُوَ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَّيْتَ الْعَصْرَ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَعَا اللَّهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ . قَالَتْ : فَرَأَيْتُ الشَّمْسَ طَلَعَتْ بَعْدَمَا غَابَتْ حِينَ رُدَّتْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤ایک روایت میں ، جو اس عورت سے منقول ہے ، وہ یہ ہے : ” وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کی یہ کیفیت ہو جاتی تھی ، جیسے آپ پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ، ایک دن آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، آپ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں ( سر رکھے ہوئے ) تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے عصر پڑھ لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ ! تو علی کے لئے سورج کو لوٹا دے ، تاکہ وہ عصر پڑھ لے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے سورج کو دیکھا کہ وہ غروب ہو جانے کے بعد پھر طلوع ہو گیا تھا ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز ادا کر لی ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، انہوں نے اسے ابراہیم بن حسن کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور فاطمہ بنت علی بن ابوطالب نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔