عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ قُتَيْلَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْعُزَّى أَرْسَلَتْ إِلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَرْسَلَتْ بِهَدَايَا فِيهَا أَقِطٌ وَسَمْنٌ ، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ لِتَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِتُدْخِلْهَا بَيْتَهَا وَلْتَقْبَلْ هَدِيَّتَهَا " . وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ ) الْآيَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ نے اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی ، اس خاتون نے کچھ تحائف بھجوائے جس میں پنیر اور گھی تھا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے اور اسے اپنے گھر کے اندر آنے سے منع کر دیا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اس عورت کو اپنے گھر میں آنے دے ، اور اس کا تحفہ قبول کر لے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے حوالے سے نہیں روکتا ہے جو دین کے بارے میں تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ أَنَّهُمَا قَالَتَا : قَدِمَتْ عَلَيْنَا أُمُّنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فِي الْهُدْنَةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّنَا قَدِمَتْ عَلَيْنَا رَاغِبَةً ، أَفَنَصِلُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَصِلَاهَا " . قُلْتُ : حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہماری والدہ مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئیں ، وہ مشرک تھیں ، یہ صلح کے بعد کے زمانے کی بات ہے ، جو صلح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان ہوئی تھی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ہمارے پاس آئی ہیں ، وہ رغبت رکھتی ہیں ، تو کیا ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔