حدیث نمبر: 13417
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ قُتَيْلَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْعُزَّى أَرْسَلَتْ إِلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَرْسَلَتْ بِهَدَايَا فِيهَا أَقِطٌ وَسَمْنٌ ، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ لِتَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِتُدْخِلْهَا بَيْتَهَا وَلْتَقْبَلْ هَدِيَّتَهَا " . وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ ) الْآيَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ نے اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی ، اس خاتون نے کچھ تحائف بھجوائے جس میں پنیر اور گھی تھا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے اور اسے اپنے گھر کے اندر آنے سے منع کر دیا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اس عورت کو اپنے گھر میں آنے دے ، اور اس کا تحفہ قبول کر لے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے حوالے سے نہیں روکتا ہے جو دین کے بارے میں تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1874) اخرجه احمد فى المسند (4/4)»