حدیث نمبر: 13418
وَعَنْ عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ أَنَّهُمَا قَالَتَا : قَدِمَتْ عَلَيْنَا أُمُّنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فِي الْهُدْنَةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّنَا قَدِمَتْ عَلَيْنَا رَاغِبَةً ، أَفَنَصِلُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَصِلَاهَا " . قُلْتُ : حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہماری والدہ مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئیں ، وہ مشرک تھیں ، یہ صلح کے بعد کے زمانے کی بات ہے ، جو صلح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان ہوئی تھی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ہمارے پاس آئی ہیں ، وہ رغبت رکھتی ہیں ، تو کیا ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1873)»