کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس بچے کا بیان ، جو نماز ادا کر رہا ہو ، اور پھر اُس دوران اس کا باپ ( یا اُس کی ماں ) اسے بلائیں
حدیث نمبر: 13419
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ مُتَعَبِّدٌ صَاحِبُ صَوْمَعَةٍ يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ ، فَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ - أَوْ أُمٌّ - فَكَانَتْ تَأْتِيهِ فَتُنَادِيهِ ، فَيُشْرِفُ عَلَيْهَا فَيُكَلِّمُهَا ، فَأَتَتْهُ يَوْمًا وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مُقْبِلٌ عَلَيْهَا ، فَنَادَتْهُ - فَحَكَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ - فَجَعَلَتْ تُنَادِيهِ رَافِعَةً رَأْسَهَا إِلَيْهِ ، وَاضِعَةً يَدَهَا عَلَى جَبْهَتِهَا : أَيْ جُرَيْجُ أَيْ جُرَيْجُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ جُرَيْجٌ : أَيْ رَبِّ أُمِّي أَمْ صَلَاتِي ؟ فَغَضِبَتْ فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لَا يَمُوتَنَّ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ . قَالَ : وَبَلَغَتْ بِنْتُ مَلِكِ الْقَرْيَةِ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالُوا لَهَا : مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ ؟ مَنْ صَاحِبُكِ ؟ قَالَتْ : هُوَ مِنْ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ جُرَيْجٍ . فَمَا نَشَبَ جُرَيْجٌ حَتَّى سَمِعَ بِالْفُؤُسِ فِي أَصْلِ صَوْمَعَتِهِ ، فَجَعَلَ يَسْأَلُهُمْ : وَيْلَكُمْ ، مَا لَكُمْ ؟ فَلَا يُجِيبُوهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَخَذَ الْحَبْلَ فَتَدَلَّى ، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ أَنْفَهُ وَيَضْرِبُونَهُ وَيَقُولُونَ : مُرَاءٍ تُخَادِعُ النَّاسَ بِعَمَلِكَ . قَالَ : وَيْلَكُمْ ، مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : بِنْتُ صَاحِبِ الْقَرْيَةِ ، بِنْتُ الْمَلِكِ الَّتِي أَحْبَلْتَهَا . قَالَ : مَا فَعَلْتُ . قَالُوا : وَلَدَتْ غُلَامًا ، قَالَ : الْغُلَامُ حَيٌّ هُوَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : فَوَلُّوا عَنِّي . فَتَوَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا ، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ وَهُوَ فِي مَهْدِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِذَلِكَ الْغُصْنِ وَقَالَ : يَا طَاغِيَةُ ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : أَبِي فُلَانٌ الرَّاعِي . قَالُوا : إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ صَوْمَعَتَكَ بِذَهَبٍ ، وَإِنْ شِئْتَ بِفِضَّةٍ . قَالَ : أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ " . فَزَعَمَ أَبُو حَرْبٍ أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . وَرُوِيَ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ( والدین کے ساتھ ) اچھا سلوک کرنے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کرنا شروع کیا : ” تم سے پہلے کی امتوں میں ایک شخص بڑا عبادت گزار تھا ، اس کا ایک عبادت خانہ تھا ، اس شخص کا نام جریج تھا ، اس شخص کی ایک بیوی تھی ، یا ایک ماں تھی ، وہ اس کے پاس آتی اور اسے آواز دیتی ، تو وہ اس ( عبادت خانے ) میں سے جھانک کر اسے دیکھا تھا ، اور اس کے ساتھ بات چیت کر لیتا تھا ، ایک مرتبہ وہ ( یعنی اس کی ماں ) اس کے پاس آئی ، وہ شخص اس وقت نماز ادا کر رہا تھا ، وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، اس خاتون نے اسے بلایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ بات بیان کی کہ کس طرح اس عورت نے اپنے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اپنا سر اونچا کر کے اسے بلند آواز میں پکارا تھا کہ اے جریج ! اے جریج ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ جریج نے جواب میں یہی سوچا کہ اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے ( تو اُس نے اپنی ماں کو جواب نہیں دیا ) وہ خاتون غصے میں آ گئی اور بولی: اے اللہ ! جریج اُس وقت تک نہ مرے ، جب تک وہ بدکار عورتوں کی شکل نہیں دیکھ لیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اس بستی کے بادشاہ کی بیٹی بالغ ہوئی اور وہ حاملہ ہو گی ، اس نے ایک بچے کو جنم دیا ، لوگوں نے اس عورت سے دریافت کیا : تمہارے ساتھ یہ عمل کس نے کیا ہے ؟ تمہارا متعلقہ فرد کون ہے ؟ اس لڑکی نے بتایا : وہ اس عبادت گاہ والا شخص جریج ہے ، جریج کو اس بات کا پتہ بھی نہیں تھا ، اس نے اپنی عبادت گاہ کی بنیادوں میں پھاؤڑے چلنے کی آواز سنی ، تو لوگوں سے دریافت کیا : تمہارا ستیاناس ہو ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، جب اس نے یہ بات دیکھی ، تو اس نے رسی پکڑی اور اسے لٹکا دیا ، تو وہ لوگ اس کی ناک کو پکڑ کر کھینچنے لگے اور اسے مارنے لگے اور کہنے لگے : اے شخص ! تم اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو ؟ اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تمہیں کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : بستی کے مالک کی بیٹی جو بادشاہ کی بیٹی ہے ، جسے تم نے حاملہ کیا ہے ، اس نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا ہے ، انہوں نے کہا: اس نے ایک بچے کو بھی جنم دیدیا ہے ، جریج نے دریافت کیا : کیا وہ بچہ زندہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! جریج نے کہا: ابھی تم لوگ مجھے چھوڑو ! پھر وہ مڑ کر واپس گیا ، اس نے دو رکعات ادا کیں ، پھر وہ اس درخت کے پاس آیا ، اس نے اس درخت میں سے ایک ٹہنی لی ، پھر وہ اس بچے کے پاس آیا ، وہ بچہ اس وقت پنگھوڑے میں موجود تھا ، جریج نے وہ ٹہنی اس بچے کو ماری اور بولا: اے سرکشی کرنے والے ! تمہارا باپ کون ہے ؟ اس بچے نے جواب دیا : میرا باپ فلاں چرواہا ہے ، لوگوں نے ( جریج سے کہا: ) اگر تم چاہو ، تو ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنوا دیتے ہیں اور اگر چاہو ، تو چاندی کا بنوا دیتے ہیں ؟ تو جریج نے کہا: اسے اُس طرح دوبارہ بنا دو ، جیسے یہ پہلے تھا ۔ “ ابوحرب نامی راوی بیان کرتے ہیں : پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے ، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ، سیدنا یوسف علیہ السلام کے گواہ نے اور جریج سے متعلقہ لڑکے نے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن فضالہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں عمدہ سند کے ساتھ مالک بن عمرو قشیری کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (224/18)»
حدیث نمبر: 13420
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ ، كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ فَقَالَتْ : أَيْ جُرَيْجُ [أَيْ بُنَيَّ ] ، أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ ، أَنَا أُمُّكَ ، أَشْرِفْ [عَلَيَّ]. فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ، ثُمَّ عَادَتْ فَنَادَتْهُ [مِرَارًا] فَقَالَتْ : أَيْ جُرَيْجُ ، أَيْ بُنَيَّ ، أَشْرِفْ عَلَيَّ . فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ . وَكَانَتْ رَاعِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ ، فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً ، فَحَمَلَتْ فَأُخِذَتْ ، وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ ، قَالُوا : مِمَّنْ ؟ قَالَتْ : مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ . فَجَاؤُوا بِالْفُئُوسِ وَالْمُرُورِ ، فَقَالُوا : أَيْ جُرَيْجُ ، أَيْ مُرَاءٍ [ثُمَّ قَالُوا] ، انْزِلْ . فَأَبَى ، يُقْبِلُ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي . فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ ، فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ ، فَجَعَلَ إِصْبَعَهُ فِي بَطْنِهَا فَقَالَ : أَيْ فُلَانُ ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ . فَقَبَّلُوهُ وَقَالُوا : إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ . قَالَ : أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرئیل میں ایک شخص تھا ، جس کا نام جریج تھا ، وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ، ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی ، اس کی ماں نے بلند آواز میں اسے پکارا اور کہا: اے جریج ! اے میرے بیٹے ! تم میری طرف جھانک کر دیکھو ، تاکہ میں تمہارے ساتھ بات چیت کروں ، میں تمہاری ماں ہوں ، تم میری طرف جھانک کر دیکھو ! جریج نے سوچا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، اس کی ماں نے پھر اسے کئی مرتبہ پکارا ، وہ عورت یہی کہتی رہی : اے جریج ! اے میرے بیٹے ! میری طرف جھانک کر دیکھو ، تو وہ یہی سوچتا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ ! تو اسے اُس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک فاحشہ عورت کی شکل اسے نہیں دکھا دیتا ، وہاں ایک بکریاں چرانے والی عورت تھی ، جو اپنے مالکان کی بکریاں چرایا کرتی تھی اور پھر اس کے عبادت خانے کے سائے میں آ جایا کرتی تھی ، اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ، وہ حاملہ ہو گی ، پھر وہ پکڑی گی ، جس شخص نے زنا کیا تھا وہ مارا گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ بچہ کس کا ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اس عبادت خانے والے شخص جریج کا ہے ، تو لوگ اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے آئے اور بولے : اے جریج ! اے دھوکے باز شخص ! پھر ان لوگوں نے کہا: تم نیچے آؤ ! لیکن جریج نیچے نہیں آیا ، وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا اور نماز پڑھتا رہا ، لوگوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کرنا شروع کر دیا ، جب اس نے یہ بات دیکھی تو وہ نیچے آیا ، لوگوں نے اس کی گردن میں ، اور اس عورت کی گردن میں رسی ڈال دی اور ان دونوں کو لوگوں میں چکر لگوایا ، تو جریج نے اپنی انگلیاں اس بچے کے پیٹ پر رکھیں اور بولا: اے فلاں ! تمہارا باپ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرا باپ فلاں شخص ہے ، جو بھیڑوں کا چرواہا ہے ، تو لوگ جریج کو چومنے لگے اور بولے : اگر تم چاہو ، تو ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی کا بنا دیتے ہیں ، تو اس نے کہا: اسے دوبارہ مٹی کا بنا دو ! جس طرح یہ پہلے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (385/2)»
حدیث نمبر: 13421
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا ، وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً وَيَزِيدُ أُخْرَى فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ لَأَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ . فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا " . قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ . أَيْ نَحْوَ حَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي قِصَّةِ جُرَيْجٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل میں ایک تاجر شخص تھا ، کبھی اس کے مال میں کمی ہو جاتی تھی کبھی اضافہ ہو جاتا تھا ، اس نے کہا: اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے ، مجھے ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے جو اس سے زیادہ بہتر ہو ، تو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اس میں رہبانیت کی زندگی اختیار کرتے ہوئے رہنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے یعنی وہ حدیث جو اس حدیث کی مانند ہے جو جریج کے واقعہ کے بارے میں ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13421
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الشيخ الألباني: السلسلة الضعيفة الجزء أو الصفحة:١٢٦١ حكم المحدث:ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (434/2)»