کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( ماں باپ کے ساتھ ) اچھا سلوک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13411
عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنَ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ ، فَأَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ [مِنْهُ] خَصَاصَةً ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَادْعُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ " . قَالَ : " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ ، فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا ، فَآتِيهِمَا ، فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُؤُوسِهِمَا ، حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتَهُ ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَفَّرَ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَهَا جُعْلَهَا . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَمْشُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَوْقُوفًا عَلَى أَنَسٍ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَكِلَاهُمَا [رِجَالُهُ] رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پہلے زمانے کے لوگوں میں سے تین افراد روانہ ہوئے ، وہ اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ ( کمانے ) کے لیے نکلے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں داخل ہو گئے ، ایک پتھر ان پر آ کر گرا ، جس نے ( غار کے منہ کو بند کر دیا ) یہاں تک کہ وہ اس میں سے ایک جھری بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: پتھر گر گیا ہے ، نشان مٹ گیا ہے ، اب تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : اُن میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے ، میں ان کے لئے ان کے برتن میں دودھ دوہ لیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان دونوں کو سوئے ہوئے پایا ، تو میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں ان کے سرہانے سے ان کی خوراک کو ہٹا لوں ، یہاں تک کہ جب انہوں نے بیدار ہونا تھا اس وقت وہ خود ہی بیدار ہوئے ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پتھر کا ایک تہائی حصہ ہٹ گیا ، دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایک کام کے لئے ایک مزدور رکھا ، جو وہ کام کرتا رہا ، پھر وہ اس کا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا ، تو میں اس وقت غصے کے عالم میں تھا ، میں نے اسے ڈانٹا تو وہ چلا گیا ، اس نے اپنے اس کام کا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کام ( کے معاوضے ) کو اکٹھا کیا اور اسے پیداوار میں لگا دیا ، یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال بن گیا ، پھر وہ ایک مرتبہ وہ اپنا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا تو میں نے وہ ساری چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر میں چاہتا تو میں اسے صرف مخصوص پہلے والا معاوضہ دے سکتا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے یہ کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی عطا فرما ! تو پتھر ایک چوتھائی ہٹ گیا ، تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ مجھے ایک عورت اچھی لگتی تھی ، اس نے اس عورت کے لئے ایک مخصوص معاوضہ مقرر کیا ، جب اس عورت پر قدرت حاصل کی ، تو وہ اس عورت سے الگ ہو گیا اور اس کا معاوضہ بھی اس کے پاس ہی رہنے دیا ( اس شخص نے کہا: ) اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ اگر میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر نکل آئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، عبداللہ نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1870 و 1868) اخرجه احمد فى المسند (142/3)»
حدیث نمبر: 13412
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الرَّقِيمَ قَالَ : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ كَانُوا فِي كَهْفٍ ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَ عَلَيْهِمْ . قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : تَذْكُرُوا أَيُّكُمْ عَمَلَ حَسَنَةً ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِيَ اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَرْطِ أَصْحَابِهِ ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِّمَامِ أَنْ لَا أَنْقُصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : تُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي ؟ فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَمْ أَبْخَسْكَ [شَيْئًا] مِنْ شَرْطِكَ ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ بِمَا شِئْتُ . قَالَ : فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ ، قَالَ : فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَقَرٌ ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ ضَعِيفٌ لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ : إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا ، فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ : إِيَّاكَ أَبْغِي ، هَذَا حَقُّكَ ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعًا ، قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا تَسْخَرْ بِي ، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي . قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَسْخَرُ بِكَ ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ . فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ لَا تَعْلَمُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ [حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ] وَأَبْصَرُوا . قَالَ آخَرُ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَأَبَتْ عَلَيَّ ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِزَوْجِهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ . فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ [إِلَيَّ] نَفْسَهَا ، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ . فَقُلْتُ لَهَا : خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ ؟ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ مِمَّا تَكَشَّفْتُهَا . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّ ذَلِكَ لِوَجْهِكِ فَافْرِجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ . وَقَالَ الْآخَرُ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ : فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ ، فَحَبَسَنِي ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي ، فَأَخَذْتُ مِحْلَبِي ، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدَيَّ حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ ، فَسَقَيْتُهُمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا " . قَالَ النُّعْمَانُ : لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَبَلُ طَاقَ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غار کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ایک غار میں تھے ، پہاڑ پر سے ایک پتھر غار کے منہ پر آیا اور ان لوگوں کے لئے دروازہ بند ہو گیا ، ان میں سے کسی نے کہا: تم لوگ یاد کرو کہ تم میں سے کس نے کون سا اچھا عمل کیا تھا ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وجہ سے ہم پر رحم کرے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ایک مرتبہ میں نے ایک اچھا کام کیا تھا ، میرے کچھ مزدور تھے جو کام کرتے تھے ، ایک مرتبہ مزدور میرے پاس آئے ، میں نے ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک متعین معاوضہ طے کر دیا ، ایک دن دوپہر کے وقت ایک شخص میرے پاس آیا ، میں نے اسے اس کے ساتھیوں کی شرط پر مزدور رکھا ، اُس نے دن کے بقیہ حصے میں کام کیا ، جس طرح پہلے والے لوگوں نے پورا دن کام کیا تھا ، جب میں نے اس کے کام میں اس کی بھرپور کوشش کو دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ میرے ذمہ یہ لازم ہے کہ میں نے اس کے ساتھیوں کو جو معاوضہ دیا ہے ، اس میں سے کوئی کمی نہ کروں ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: کہ آپ نے اسے بھی اتنا ہی معاوضہ دیا ہے جو مجھے دیا ہے ؟ تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے ساتھ جو طے کیا تھا ، اس میں سے کوئی کمی تو نہیں کی ؟ یہ میرا مال ہے ، میں اس کے بارے میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں ، تو وہ شخص غصے میں آیا اور چلا گیا اور اپنا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کے معاوضے کو گھر کے ایک حصے میں رکھ لیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ وہ وہاں پڑا رہا ، پھر ایک مرتبہ میرے پاس سے گائے گزری ، تو میں نے ان میں سے گائے کا بچھڑا خرید لیا ، پھر ان میں جتنا اللہ کو منظور تھا ، اضافہ ہوتا چلا گیا ، ایک عرصہ گزرنے کے بعد میرے پاس ایک بوڑھا کمزور شخص گزرا ، جسے میں پہچانتا نہیں تھا ، اس نے کہا: میرا تمہارے پاس ایک حق ہے ، پھر اس نے مجھے یاد کروایا تو میں پہچان گیا ، میں نے کہا: میں تمہیں ہی ملنا چاہ رہا تھا ، یہ تمہارا حق ہے ، پھر میں نے وہ تمام جانور اس کو دیدیے ، اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم میرا مذاق نہ اڑاؤ ! اگر تم مجھے کوئی چیز دے نہیں سکتے ، تو مجھے میرا حق تو دیدو ، تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، یہ تمہارا حق ہے ، اس میں سے کوئی بھی چیز میری نہیں ہے ، تو میں نے وہ تمام جانور اس کے حوالے کر دیے ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ پتھر ذرا سا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے باہر دیکھ سکتے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا: میں نے بھی ایک مرتبہ ایک اچھائی کی تھی ، میرے پاس اضافی رقم موجود تھی ، لوگوں کو قحط سالی لاحق ہوئی ، ایک عورت میرے پاس آئی ، وہ مجھ سے بھلائی ( یعنی مالی تعاون ) کی طلبگار تھی ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہاری قربت چاہتا ہوں ، اس کے بغیر کچھ نہیں دوں گا ، اُس نے میری بات نہیں مانی ، وہ چلی گی ، پھر وہ واپس آئی ، پھر اس نے مجھے اللہ کے نام کی یاد دلائی ، تو میں نے اس کی بات نہیں مانی ، میں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کئے بغیر نہیں ہو گا ، اس نے میری بات نہیں مانی ، پھر وہ چلی گی ، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے شوہر سے کیا ، تو اس کے شوہر نے اس سے کہا: تم اپنا آپ اس کے حوالے کر دو اور اپنے بال بچوں کے لئے بہتری ( کی کوشش ) کرو ! تو وہ واپس میرے پاس آئی ، اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا ، میں نے اس کی بات کا انکار کیا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کیے بغیر نہیں ہو گا ، جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دیا ، جب میں پردہ ہٹانے لگا اور اس کے قرب کا ارادہ کیا تو وہ میرے نیچے کانپنے لگی ، میں نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے کہا: میں تمام جہانوں کے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈر رہی ہوں ، میں نے اس سے کہا: تم اس پریشانی کے عالم میں بھی اُس سے ڈر رہی ہو اور میں ایسی خوشحالی کے عالم میں بھی اُس سے نہیں ڈر رہا ہوں ، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا ، اور میں نے اُسے وہ معاوضہ دیدیا ، جو اس نے میرے ساتھ طے کیا تھا ، اُس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس کا پردہ ہٹانا چاہا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو وہ پتھر اتنا ہٹ گیا کہ وہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکتے تھے اور ان کے سامنے ( غار کی اندرونی صورت حال ) واضح ہو گئی تھی ۔ تیسرے شخص نے کہا: میں نے بھی ایک مرتبہ ایک نیک کام کیا تھا ، میرے ماں باپ بوڑھے عمر رسیدہ تھے ، میری بکریاں تھیں ، میں اپنے ماں باپ کو کھانا کھلاتا تھا اور انہیں پانی پلاتا تھا ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف واپس چلا جاتا تھا ، ایک دن بارش ہوئی ، تو میں اس وجہ سے جلدی نہیں آ سکا ، دیر ہو گئی ، یہاں تک کہ شام ہو گئی ، جب میں اپنے گھر آیا ، میں نے دودھ دوہنے کا برتن لے کر دودھ دوہ لیا ، میری بکری کھڑی ہوئی تھی ، میں اپنے ماں باپ کے پاس گیا ، تو میں نے اُن دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، یہ بات میرے لئے گرانی کا باعث ہوئی کہ میں انہیں بیدار کروں اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں اپنی بکری کو چھوڑ دوں ، پھر میں مسلسل بیٹھا رہا اور دودھ دوہنے والا برتن میرے ہاتھ میں رہا ، یہاں تک کہ صبح کے وقت وہ دونوں بیدار ہوئے ، تو میں نے اُن دونوں کو دودھ پلایا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ۔ “ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا کہ اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سن رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ پہاڑ سرکا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے کشادگی پیدا کر دی ، اور وہ لوگ ( غار سے ) باہر آ گئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3180 و 3179 و 3178) اخرجه احمد فى المسند (274/4)»
حدیث نمبر: 13413
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فِي غَيْثِ السَّمَاءِ إِذْ مَرُّوا بِغَارٍ فَقَالُوا : لَوْ آوَيْتُمْ إِلَى هَذَا الْغَارِ ، فَآوَوْا إِلَيْهِ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذْ وَقَعَ حَجَرٌ مِنَ الْجَبَلِ مِمَّا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، حَتَّى سَدَّ الْغَارَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّكُمْ لَنْ تَجِدُوا [شَيْئًا] خَيْرًا مِنْ أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ بِخَيْرِ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ [إِنِّي] كُنْتُ رَجُلًا زَرَّاعًا وَكَانَ لِي أُجَرَاءُ ، فَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يَعْمَلُ كَعَمَلِ رَجُلَيْنِ ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ كَمَا أَعْطَيْتُ الْأُجَرَاءَ ، فَقَالَ : أَعْمَلُ عَمَلَ رَجُلَيْنِ وَتُعْطِينِي عَمَلَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ؟ فَانْطَلَقَ وَغَضِبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ عِنْدِي ، فَبَذَرْتُهُ عَلَى حِدَتِهِ فَأُضْعِفَ ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ ، حَتَّى كَثُرَ الطَّعَامُ فَكَانَ أَكْدَاسًا ، فَاحْتَاجَ الرَّجُلُ فَأَتَانِي ، فَسَأَلَنِي أَجْرَهُ فَقُلْتُ : انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْأَكْدَاسِ فَإِنَّهَا أَجْرُكَ . فَقَالَ : تَظْلِمُنِي وَتَسْخَرُ بِي ؟ قُلْتُ : مَا أَسْخَرُ بِكَ . فَانْطَلَقَ فَأَخَذَهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءِ وَجْهِكَ ، فَاكْشِفْ عَنَّا . قَالَ : الْحَجَرُ فَضَّ ، فَانْفَرَجَتْ مِنْهُ فُرْجَةٌ عَظِيمَةٌ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین آدمی بارش میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، انہوں نے کہا: اگر تم لوگ اس غار میں پناہ لے لو ، تو مناسب ہو گا ، پھر وہ اس غار کے اندر چلے گئے ، ابھی وہ اس کے درمیان موجود تھے کہ اسی دوران پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا ، یہ وہ پتھر تھا ، جو اللہ کے خوف کی وجہ سے گرا تھا ، یہاں تک کہ اس نے غار کے منہ کو بند کر دیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ اب کوئی بھلائی کی چیز نہیں پاؤ گے ، تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے اس بہترین عمل کے حوالے سے دعا کرنی چاہیے ، جو اُس نے کبھی کیا ہو ۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ ! میں کھیتی باڑی کرنے والا شخص تھا ، میرے مزدور تھے ، ان میں ایک شخص ایسا تھا جو دو آدمیوں کے برابر کام کرتا تھا ، میں نے اس کو اتنا ہی معاوضہ دیا ، جتنا میں نے دوسروں کو دیا تھا ، تو اس نے کہا: میں نے دو آدمیوں جتنا کام کیا ہے اور تم مجھے ایک آدمی کے کام جتنا معاوضہ دے رہے ہو ، وہ غصے میں آ کے چلا گیا اور اس نے اپنا معاوضہ میرے پاس چھوڑ دیا ، میں نے اسے الگ طور پر کھیتی باڑی میں خرچ کیا ، تو وہ کئی گنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے استعمال کیا تو وہ دگنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے خرچ کیا ، تو وہ دگنا ہو گیا ، یہاں تک کہ اناج بہت سا ہو گیا اور اس کے ڈھیر لگ گے ، پھر وہ شخص محتاج ہوا ، تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا معاوضہ مجھ سے مانگا ، تو میں نے کہا: تم ان ڈھیروں کے پاس جاؤ ! وہ تمہارا معاوضہ ہے ، اس نے کہا: ایک تو تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ، پھر میرا مذاق بھی اڑا رہے ہو ، میں نے کہا: میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، وہ شخص گیا اور اس نے ان کو وصول کر لیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا ، تو تم ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ پتھر تھوڑا سا سرک گیا اور اس کی وجہ سے ایک بڑا سوراخ بن گیا ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13414
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَهَبَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ رَادَّةً لِأَهْلِهِمْ ، قَالَ : فَأَخَذَهُمْ مَطَرٌ ، فَلَجَئُوا إِلَى غَارٍ قَالَ : فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - مِنْ فَمِ الْغَارِ - حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمْ فَمَ الْغَارِ ، وَوَقَعَ بِتَجَافٍ عَنْهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ النَّفَرُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : عَفَا الْأَثَرُ وَوَقَعَ الْحَجَرُ ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى ، فَتَعَالَوْا فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَوْثَقِ عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، عَسَى أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ . قَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ بَرًّا بِوَالِدَيَّ ، وَإِنِّي أَرَحْتُ غَنَمِي لَيْلَةً ، وَكُنْتُ أَحْلِبُ لِأَبَوَيَّ فَآتِيهُمَا [وَهُمَا] مُضْطَجِعَانِ عَلَى فِرَاشِهِمَا ، حَتَّى أَسْقِيَهُمَا بِيَدِي ، وَإِنِّي أَتَيْتُهُمَا لَيْلَةً مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي ، وَجِئْتُ بِشَرَابِهِمَا فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، وَإِنِّي جَعَلْتُ أَرْغَبُ لَهُمَا فِي نَوْمِهِمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَرْجِعَ بِالشَّرَابِ فَيَسْتَيْقِظَانِ فَلَا يَجِدَانِي عِنْدَهُمَا ، فَقُمْتُ مَكَانِي قَائِمًا عَلَى رُءُوسِهِمَا كَذَلِكَ ، حَتَّى أَصْبَحْتُ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - ثُلُثُ الْحَجَرِ انْفِرَاجًا . قَالُوا لِلْآخَرِ : إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ : فَقَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي أَحْبَبْتُ ابْنَةَ عَمٍّ لِي حُبًّا شَدِيدًا - وَإِنِّي أَحْسَبُهُ قَالَ : - خَطَبْتُهَا إِلَى أَهْلِهَا فَمَنَعُونِيهَا ، حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا مَا رَضِيتُ بِهِ بَيْنِي وَبَيْنَهَا ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهَا فَخَلَوْتُ بِهَا ، فَقَعَدْتُ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ . فَانْقَبَضْتُ إِلَى نَفْسِي ، وَوَفَّرْتُ حَقَّهَا عَلَيْهَا وَنَفْسَهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - انْفِرَاجًا . وَقَالُوا لِلثَّالِثِ : إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي عَمَلَ لِي عَامِلٌ عَلَى صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، فَانْطَلَقَ الْعَامِلُ وَلَمْ يَأْخُذْ صَاعَهُ ، فَاحْتَبَسَ عَلَيَّ طَوِيلًا مِنَ الدَّهْرِ ، وَإِنِّي عَمَدْتُ إِلَى صَاعِهِ أَحْرُثُهُ ، حَتَّى اجْتَمَعَ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ بَقَرٌ كَثِيرٌ وَشَاءٌ كَثِيرٌ وَمَالٌ كَثِيرٌ ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامِلَ أَتَانِي بَعْدَ زَمَانٍ يَطْلُبُ الصَّاعَ مِنَ الطَّعَامِ ، وَإِنِّي قُلْتُ لَهُ : إِنَّ صَاعَكَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ قَدْ صَارَ مَالًا كَثِيرًا وَشَاءً كَثِيرًا وَبَقَرًا كَثِيرًا ، فَخُذْ هَذَا كُلَّهُ فَإِنَّهُ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ . قَالَ لِي : أَتَسْخَرُ بِي ؟ قُلْتُ لَهُ : لَا وَاللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ الْحَقُّ . فَانْطَلَقَ بِهِ يَسُوقُ الْمَالَ أَجْمَعَ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . فَانْفَلَقَ الْحَجَرُ فَوَقَعَ ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین افراد اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں چلے گئے ، غار کے منہ پر ایک پتھر آ گیا اور اس نے غار کے منہ کا دروازہ ان کے لئے بند کر دیا ، اور وہ ایسی حالت میں آ کے گرا کہ ان کا راستہ بالکل بند ہو گیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: اب نشان مٹ گیا ہے ، پتھر آ کے گر گیا ہے اور تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم لوگ آگے آؤ ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے حوالے سے دعا کرے ، جو اس نے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہو ، تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اُس جگہ سے نکلوا دے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا ، میں رات کے وقت اپنی بکریاں واپس لے کر آتا تھا اور اپنے ماں باپ کے لئے دودھ دوہ کر ان کے پاس آیا تو وہ دونوں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ہوتے تھے ، میں اپنے ہاتھ سے انہیں دودھ پینے کے لئے دیتا تھا ، ایک رات میں اُن کے پاس آیا ، میں ان کا مشروب لے کر آیا تو میں نے ان دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، میں ان کے لئے یہ بھی چاہتا تھا کہ اُن کی نیند خراب نہ ہو ، تو مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں مشروب لے کے واپس چلا جاؤں اور پھر وہ بیدار ہو جائیں اور مجھے اپنے پاس نہ پائیں ، تو اپنی جگہ اسی طرح ان کے سرہانے کھڑا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے !“ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد یہ کلمات ہیں کہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ اُن لوگوں نے دوسرے سے کہا: اب تم کچھ کہو ! تو دوسرے شخص نے یہ کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنی چچا زاد سے شدید محبت کرتا تھا ، میں نے اس کے گھر والوں کو شادی کا پیغام بھی دیا تھا ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا ؟ یہاں تک کہ میں نے اس کے لئے وہ رقم مقرر کی ، جس کے ذریعے وہ میرے اور اپنے درمیان تعلق پر راضی ہو جاتی ، پھر میں نے اسے بلایا اور اس کے ساتھ خلوت میں چلا گیا اور میں اس کے قریب یوں آ گیا ، جس طرح کوئی مرد کسی عورت کے قریب آتا ہے ، تو اس نے کہا: یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم ناحق طور پر مہر کو ختم کرو ، تو مجھے اپنے آپ کو سمیٹنا پڑا اور میں نے اس کا معاوضہ اس کے پاس رہنے دیا اور اس کی ذات کو بھی اس کے حوالے کر دیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے ، اگر میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو کچھ مزید کشادگی ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا اُس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) ۔ لوگوں نے تیسرے شخص سے کہا: یعنی اب تم کچھ کہو ! تو تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ ایک مزدور اناج کے ایک صاع کے عوض میں میرے لئے کام کرتا تھا ، ایک مرتبہ وہ مزدور چلا گیا ، اس نے اپنا صاع وصول نہیں کیا ، پھر وہ طویل عرصے تک میرے پاس نہیں آیا ، میں نے اُس کے صاع کے ذریعے کھیتی باڑی شروع کی ، یہاں تک کہ اس صاع کے ذریعے بہت سی گائیں بکریاں اور مال اکٹھا ہو گیا ، ایک زمانہ گزرنے کے بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور اس نے اناج کے صاع کو طلب کیا ، میں نے اس سے کہا: تمہارا اناج کا ایک صاع اب بہت سا مال ، بہت سی بھیڑ بکریوں اور بہت سی گائیوں میں تبدیل ہو چکا ہے ، تم ان سب کو لے لو ! یہ اس صاع کے نتیجے میں ہیں ، اس نے مجھ سے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو ؟ میں نے اس سے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! بلکہ یہ حق ہے ، تو وہ سارے مال کو ہانک کر لے گیا ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ کے گر گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رِجَالُهُمَا
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1869 و 1866)»
حدیث نمبر: 13415
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا إِلَى حَاجَةٍ لَهُمْ ، فَأَوَوْا إِلَى جَبَلٍ ، فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا هَؤُلَاءِ - يَعْنِي بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ - تَفَكَّرُوا فِي أَحْسَنِ أَعْمَالِكُمْ فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا ، لَعَلَّ اللَّهَ يُفَرِّجُ عَنْكُمْ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي مَرَّةً صَدِيقَةٌ أُطِيلُ الِاخْتِلَافَ إِلَيْهَا ، فَتَرَكْتُهَا مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . قَالَ : فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الْخُرُوجَ . وَقَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ عَمَلًا - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَأَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَجْرَهُ وَتَرَكَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَجْرَهُ ، وَزَعَمَ أَنَّ أَجْرَهُ أَكْثَرُ مِنْ أُجُورِ أَصْحَابِهِ ، فَعَزَلْتُ أَجْرَهُ مِنْ مَالِي ، حَتَّى كَانَ خَيْرًا وَمَاشِيَةً فَأَتَانِي بَعْدَمَا افْتَقَرَ وَكَبِرَ فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي أَجْرِي ، فَأَنَا أَحْوَجُ مَا كُنْتُ إِلَيْهِ ، فَانْطَلَقْتُ فَوْقَ بَيْتٍ ، فَأَرَيْتُهُ مَا أَنْمَى اللَّهُ لَهُ مِنْ أَجْرِهِ فِي الْمَالِ وَالْمَاشِيَةِ فِي الْغَائِطِ - يَعْنِي فِي الصَّحَارَى - فَقُلْتُ : هَذَا لَكَ . فَقَالَ : لِمَ تَسْخَرُ بِي أَصْلَحَكَ اللَّهُ ؟ كُنْتُ أُرِيدُكَ عَلَى أَقَلِّ مِنْ هَذَا فَتَأْبَى عَلَيَّ . فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ يَا رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ ، وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَخْرُجُوا . وَقَالَ الثَّالِثُ : يَا رَبِّ ، كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ فَقِيرَانِ ، لَيْسَ لَهُمَا خَادِمٌ وَلَا رَاعٍ وَلَا وَالٍ غَيْرِي ، أَرْعَى لَهُمَا بِالنَّهَارِ ، وَآوِي إِلَيْهِمَا بِاللَّيْلِ ، وَإِنَّ الْكَلَأَ تَبَاعَدَ فَتَبَاعَدْتُ بِالْمَاشِيَةِ ، فَأَتَيْتُهُمَا - يَعْنِي لَيْلَةً - بَعْدَمَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ وَنَامَا ، فَحَلَبْتُ يَعْنِي فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ جَلَسْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا - يَعْنِي بِالْإِنَاءِ - كَرَاهِيَةَ أَنْ أُوقِظَهُمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ وَخَرَجُوا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی علی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین افراد اپنے کسی کام کے سلسلے میں جا رہے تھے ، وہ ایک غار میں آئے اور ان پر ایک پتھر آ کر گرا ، تو ان لوگوں نے کہا: ( یعنی ایک دوسرے سے یہ کہا: ) اے لوگو تم اپنے سب سے عمدہ عمل کے بارے میں غور و فکر کرو اور اس عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی نصیب کرے ، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ میری ایک سہیلی تھی ، جس کے پاس میں بکثرت آتا جاتا رہا ، لیکن پھر میں نے تیرے خوف کی وجہ سے تیری رضامندی کے حصول کے لئے اسے چھوڑ دیا ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو ان لوگوں سے پتھر ذرا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ انہیں یہ امید پیدا ہوئی کہ وہ نکل سکیں گے ، لیکن ابھی وہ وہاں سے نکل نہیں سکتے تھے ، دوسرے نے کہا: اے اللہ ! میرے کچھ مزدور تھے ، جو کام کرتے تھے ، ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنا معاوضہ وصول کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اپنا معاوضہ ترک کر دیا ، اس کا یہ گمان تھا کہ اس کا معاوضہ اس کے ساتھیوں کے معاوضے سے زیادہ بنتا ہے ، تو میں نے اس کے معاوضے کو اپنے مال سے الگ کیا ، یہاں تک کہ وہ بہت سی بھلائی اور جانوروں میں تبدیل ہو گیا ، جب وہ شخص بوڑھا اور عمر رسیدہ ہو گیا تو اس کے بعد وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: میں اپنے معاوضے کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اب مجھے اس کی شدید ضرورت ہے ، تو میں اپنے گھر کے اوپر گیا ، میں نے اسے وہ چیزیں دکھائیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے معاوضے کے ذریعے بڑھائی تھیں ، جو مال مویشیوں کی شکل میں تھیں اور کھلی جگہ پر تھیں ، میں نے کہا: یہ سب چیزیں تمہاری ہوئیں ، اس نے کہا: تم میرا مذاق کیوں اڑا رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ، میں تو تم سے اس سے بہت کم چیز حاصل کرنا چاہتا ہوں اور تم وہ مجھے نہیں دے رہے ہو ، تو اے پروردگار ! میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے وہ چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو پتھر ان لوگوں سے کچھ ہٹ گیا ، لیکن وہ ابھی بھی باہر نہیں جا سکتے تھے ، تیسرے شخص نے کہا: میرے بوڑھے عمر رسیدہ غریب ماں باپ تھے ، ان کا کوئی خادم یا دیکھ بھال کرنے والا نگران ، میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، میں دن کے وقت ان کے لئے بکریاں چراتا تھا اور رات کے وقت ان کے پاس آ جایا کرتا تھا ، گھاس پھوس دور ہوتی تھی ، تو مجھے جانوروں کو لے کر دور جانا پڑتا تھا ، ایک رات میں ان کے پاس رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد آیا ، تو وہ دونوں سو چکے تھے ، میں نے برتن میں دودھ دوہ لیا ، پھر میں ان کے سرہانے آ کے بیٹھ گیا ، مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں انہیں بیدار کروں ، میں یہ چاہتا تھا وہ دونوں ازخود بیدار ہوں ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر نکل آئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13415
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1867)»
حدیث نمبر: 13416
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَابٌّ مِنْ ثَنِيَّةٍ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا قُلْنَا : لَوْ أَنَّ هَذَا الشَّابَّ جَعَلَ قُوَّتَهُ وَشَبَابَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَتَنَا فَقَالَ : " أَمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ قُتِلَ ؟ ! مَنْ سَعَى عَلَى وَالِدَيْهِ فَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ سَعَى لِيُكَاثِرَ فَفِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " وَمَنْ سَعَى عَلَى عِيَالِهِ فَفِي سَبِيلِ اللَّهِ " . وَفِيهِ رَبَاحُ بْنُ عُمَرَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران گھاٹی کی طرف سے ایک نوجوان ہمارے سامنے آیا ، جب وہ ہمارے قریب آیا تو ہم نے کہا: کاش اس نوجوان نے اپنی جوانی اور اپنی قوت کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری بات سن لی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا اللہ کی راہ میں صرف وہ ہوتا ہے ، جو قتل ہوتا ہے ، جو شخصٓ اپنے ماں باپ کے لئے محنت مزدوری کرتا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے اور جو شخص مال میں کثرت کے لئے کوشش کرتا ہے ، وہ طاغوت ( یعنی شیطان ) کے راستے میں شمار ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” جو شخص اپنے بال بچوں کے لئے مزدوری کرتا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں ہوتا ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی رباح بن عمر ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1871)»