کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو ایسے شخص پر لعنت کرتا ہے ، جو لعنت کا اہل نہ ہو
عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَسْقَى ، فَبَعَثْتُ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ ، فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَهَا ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ ، هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ ، وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، فَأَرْسَلْتُ الْجَارِيَةَ فَأَبْطَأَتْ ، إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ شَرَابٌ ، وَإِمَّا رَغِبُوا عَمَّا عِنْدَهُمْ ، فَأَبْطَأَتِ الْخَادِمَةُ فَلَعَنْتَهَا ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " إِنَّ اللَّعْنَةَ إِذَا وُجِّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا ، أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا ، وَإِلَّا قَالَتْ : يَا رَبِّ ، وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ ، فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا ، وَلَمْ أَجِدُ عَلَيْهِ سَبِيلًا . فَيُقَالُ لَهَا : ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ . فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً ، فَتَرْجِعُ اللَّعْنَةُ فَأَكُونُ سَبَبَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ صَدِيقَ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يَزُورُهُ هُوَ ثِقَةٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عیزار بن جرول اپنی قوم کے ایک فرد جن کی کنیت ابوعمیر تھی ، ان کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے گھر ان سے ملنے کے لئے آئے ، تو انہوں نے ان کو گھر نہیں پایا ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے گھر والوں سے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سلام کیا ، پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو اس شخص کی اہلیہ نے ایک کنیز کو بھیجا ، جو پڑوسیوں کے پاس سے مشروب ان کے پاس لے کے آئی ، اس کو آنے میں تاخیر ہو گئی ، تو سیدنا عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کنیز پر لعنت کی ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر سے باہر نکل آئے ، اسی دوران ابوعمیر آ گئے ، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ جیسے افراد پر غصہ نہیں کیا جا سکتا ہے ، آپ نے اپنے بھائی کی بیوی ( یا گھر والوں کو ) سلام کیوں نہیں کیا اور بیٹھ کر کچھ پیا کیوں نہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے ایسا ہی کیا تھا ، تو اس خاتون نے کنیز کو بھیجا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، یا تو یہ ہے کہ پڑوسیوں کے پاس پینے کے لئے کچھ نہیں ہو گا یا پھر یہ ہے کہ وہ کسی وجہ سے دینا نہیں چاہتے ہوں گے ، جب خادمہ کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو میں نے اس پر لعنت کر دی اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب لعنت کسی طرف بھیجی جاتی ہے ، تو جس کی طرف وہ بھیجی گئی ہو اگر اس کو وہاں تک جانے کے لئے راستہ مل جائے ( راوی کو شک ہے ، یہاں کچھ الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے ) تو ٹھیک ہے ورنہ وہ یہ کہتی ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا اور میں نے وہاں جانے کا راستہ نہیں پایا اور میں نے اس کی کوئی گزرگاہ نہیں پائی ، تو اس لعنت سے کہا: جاتا ہے : تو تم اس طرف واپس چلی جاؤ جہاں سے تم آئی ہو ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ خادمہ معذور ہو گی اور لعنت واپس آ جائے گی اور میں اس کا ہدف بن جاؤں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوعمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ دوست جس سے وہ ملنے کے لئے آئے تھے وہ ثقہ ہی ہو گا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوعمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ دوست جس سے وہ ملنے کے لئے آئے تھے وہ ثقہ ہی ہو گا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا فَافْعَلْ ، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ صَاحِبِهَا فَكَانَ الْمَلْعُونُ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا فَكَانَ اللَّاعِنُ لَهَا أَهْلًا ، رَجَعَتْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا أَوْ مَجُوسِيًّا ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا أَبَدًا فَافْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يَضَعُ الْحَدِيثَ ، وَكَذَّبَهُ غَيْرُهُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تم سے ہو سکے کہ تم کسی پر لعنت نہ کرو ، تو تم ایسا کرو کیونکہ جب لعنت اپنے متعلقہ فرد سے نکلتی ہے ، تو اگر ملعون شخص اس کا اہل ہو ، تو وہ اس تک پہنچ جاتی ہے ، اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو ، تو پھر لعنت کرنے والا اس کا اہل ہو گا ، اور وہ اس کی طرف واپس آ جاتی ہے ، اور اگر وہ بھی اس کا اہل نہ ہو ، تو وہ کسی یہودی یا عیسائی یا مجوسی تک پہنچ جاتی ہے ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم کبھی کسی چیز پر لعنت نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جعد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ان کے علاوہ دیگر افراد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جعد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ان کے علاوہ دیگر افراد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔