کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب کسی کو برا کہا جائے ، تو وہ کیسے برا کہے ؟
حدیث نمبر: 13018
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : ¤ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسُبَّ وَقَالَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ سَابًّا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلَا يَفْتَرِ ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْهِ ، وَلَا يَسُبَّ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : إِنَّكَ بَخِيلٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَجَبَانٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَكَذُوبٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَئُومٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی کو ( برا کہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر کسی شخص نے لازمی طور پر اپنے ساتھی کو برا کہنا ہی ہو ، تو وہ اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ لگائے اور اس کے ماں باپ کو برا نہ کہے ۔ اس کی قوم کو برا نہ کہے بلکہ یہ ہے کہ اگر وہ جانتا ہے کہ ( یہ خامی اس شخص میں پائی جاتی ہے ) تو پھر وہ یہ کہہ دے کہ تم کنجوس ہو یا یہ کہہ دے کہ تم بزدل ہو یا یہ کہہ دے کہ تم جھوٹے ہو یا یہ کہہ دے کہ تم قابل مذمت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کی سند میں ایک متروک راوی ہے ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13018
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2038) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7030)»