کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کو جب کوئی برا کہے تو وہ کیا کہے ؟
حدیث نمبر: 13021
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ : عَلَيْكَ السَّلَامُ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَمَا إِنَّ مَلَكًا يَذُبُّ عَنْكَ ، كُلَّمَا شَتَمَكَ هَذَا قَالَ لَهُ : بَلْ أَنْتَ ، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ ، فِإِذَا قَالَ لَهُ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ : لَا بَلْ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ " . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے دوسرے شخص کو برا کہا: تو جس شخص کو برا کہا: گیا تھا اس نے یہ کہنا شروع کیا کہ تم پر سلامتی نازل ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا جو تم سے ہر وہ چیز پرے کر رہا تھا جو وہ تمہارے خلاف برا کہہ رہا تھا ، اور فرشتہ اس کو یہ کہہ رہا تھا بلکہ تم ایسے ہو ، اور تم اس کے زیادہ حق دار ہو ، اور جب تم نے اسے جواب میں یہ کہا: کہ تم پر سلامتی نازل ہو ، تو فرشتے نے کہا: جی نہیں بلکہ تم اس کے زیادہ حق دار ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (445/5)»