مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَعَنَ مَا لَيْسَ بِأَهْلِ اللَّعْنَةِ باب: اس شخص کا بیان جو ایسے شخص پر لعنت کرتا ہے ، جو لعنت کا اہل نہ ہو
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا فَافْعَلْ ، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ صَاحِبِهَا فَكَانَ الْمَلْعُونُ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا فَكَانَ اللَّاعِنُ لَهَا أَهْلًا ، رَجَعَتْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا أَوْ مَجُوسِيًّا ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا أَبَدًا فَافْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يَضَعُ الْحَدِيثَ ، وَكَذَّبَهُ غَيْرُهُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تم سے ہو سکے کہ تم کسی پر لعنت نہ کرو ، تو تم ایسا کرو کیونکہ جب لعنت اپنے متعلقہ فرد سے نکلتی ہے ، تو اگر ملعون شخص اس کا اہل ہو ، تو وہ اس تک پہنچ جاتی ہے ، اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو ، تو پھر لعنت کرنے والا اس کا اہل ہو گا ، اور وہ اس کی طرف واپس آ جاتی ہے ، اور اگر وہ بھی اس کا اہل نہ ہو ، تو وہ کسی یہودی یا عیسائی یا مجوسی تک پہنچ جاتی ہے ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم کبھی کسی چیز پر لعنت نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جعد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ان کے علاوہ دیگر افراد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔