کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سوار ، یا اس کے علاوہ میں سے ، کس کے لئے سلام میں پہل کرنے کو مسنون قرار دیا گیا ہے ؟
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْمَاشِيَانِ أَيُّهُمَا بَدَأَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْمَاشِيَانِ أَيُّهُمَا بَدَأَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا ، اور پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے گا ، اور دو پیدل چلنے والوں میں سے جو سلام میں پہل کرے گا ، وہ زیادہ فضیلت والا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ : أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ :
" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " .
ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " .
ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " . قَالُوا : أَوَ لَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَبَنَاتُنَا وَأَخَوَاتُنَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطَيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِنِ ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " .
ثُمَّ قَالَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ ، وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ ، وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ ، فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " .
ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " .
ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " . قَالُوا : أَوَ لَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَبَنَاتُنَا وَأَخَوَاتُنَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطَيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِنِ ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " .
ثُمَّ قَالَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ ، وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ ، وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ ، فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ابوسلام بیان کرتے ہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو باتیں سنی ہیں ، ان کے حوالے سے لوگوں کو تعلیم دیں ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو ، تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو ، اس کو چھوڑو نہیں ، اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے مال میں اضافہ نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تاجر لوگ ہی گنہگار ہوتے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن وہ لوگ حلف ( یعنی جھوٹی قسمیں ) اٹھاتے ہیں ، اور گنہگار ہوتے ہیں ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : فاسق لوگ ہی جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عورتیں ۔ لوگوں نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں ، ہماری بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن ان کا یہ عالم ہے کہ جب انہیں کچھ دیا جائے ، تو وہ شکرگزار نہیں ہوتی ہیں ، اور جب وہ آزمائش کا شکار ہو جائیں تو صبر نہیں کرتی ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سوار شخص پیدل شخص کو سلام کرے ، پیدل بیٹھے ہوئے شخص کو کرے ، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو کریں ، جو شخص سلام کا جواب دیدے گا ، تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور جو جواب نہیں دے گا ، تو اسے کچھ نہیں ملے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔