کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 12763
عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَقِيَ أَصْحَابَهُ لَمْ يُصَافِحْهُمْ حَتَّى يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے تھے ، تو ان سے مصافحہ اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک پہلے سلام نہیں کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12763
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1721)»
حدیث نمبر: 12764
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا ، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا ، وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ¤ " كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُجِيبَ دُعَاءَهُمَا ، وَلَا يَرُدَّ أَيْدِيَهُمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی دو مسلمان ایک دوسرے سے ملیں اور ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ لازم ہے کہ وہ ان دونوں کی دعا کے وقت موجود ہو ، اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ان دونوں کی دعا کو قبول کرے اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2004) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2960) اخرجه احمد فى المسند (142/3)»
حدیث نمبر: 12765
وَعَنْهُ : كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَلَاقَوْا تَصَافَحُوا ، وَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ تَعَانَقُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب ایک دوسرے سے ملتے تھے ، تو مصافحہ کرتے تھے ، اور جب وہ سفر سے واپس آتے تھے تو معانقہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12765
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (97)»
حدیث نمبر: 12766
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ فَصَافَحَهُ ، تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الطَّحْلَاءِ ، رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مومن کسی دوسرے مومن سے ملتا ہے ، اور اس کو سلام کرتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ایک راوی یعقوب بن محمد بن طحلاء ہے ، جس سے ایک سے زیادہ افراد نے روایات نقل کی ہیں اور کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (247)»
حدیث نمبر: 12767
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا الْتَقَى الرَّجُلَانِ الْمُسْلِمَانِ فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ ، فَإِنَّ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ أَحْسَنُهُمَا بِشْرًا بِصَاحِبِهِ ، فَإِذَا تَصَافَحَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ ، لِلْبَادِئِ مِنْهُمَا تِسْعُونَ ، وَلِلْمُصَافِحِ عَشْرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان شخص ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے ، جو دوسرے کے ساتھ زیادہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے ، اور جب وہ دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، ان دونوں میں سے پہل کرنے والے کو نوے ( رحمتیں ) ملتی ہیں ، اور مصافحہ کرنے والے کو دس ( رحمتیں ) ملتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2003)»
حدیث نمبر: 12768
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ حُذَيْفَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يُصَافِحَهُ ، فَتَنَحَّى حُذَيْفَةُ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا صَافَحَ أَخَاهُ تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُمَا ، كَمَا يَتَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے ان کے ساتھ مصافحہ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنابت کی حالت میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2005)»
حدیث نمبر: 12769
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا فَتَصَافَحَا وَتَسَايَلَا ، أَنْزَلَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا مِائَةَ رَحْمَةٍ ، تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِأَبَشِّهِمَا وَأَطْلَقِهِمَا وَأَبَرِّهِمَا وَأَحْسَنِهِمَا صَابَلَةً بِأَخِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عَدِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے حال احوال پوچھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان ایک سو رحمتیں نازل کرتا ہے ، جن میں سے ننانوے رحمتیں اس شخص کے لئے ہوتی ہیں ، جو زیادہ خندہ پیشانی ، خوش مزاجی ، اچھائی اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے ملتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن کثیر بن عدی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12770
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ : لَقِيَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي ، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي ، ثُمَّ قَالَ : تَدْرِي لِمَ أَخَذْتُ بِيَدِكَ ؟ قَالَ : لَا ، لَا ، إِنِّي ظَنَنْتُ لَمْ تَفْعَلْهُ إِلَّا لِخَيْرٍ . فَقَالَ : إِنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَنِي فَفَعَلَ بِي ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ بِكَ ذَلِكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا وَتَصَافَحَا ، وَضَحِكَ كُلٌّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي وَجْهِ صَاحِبِهِ ، لَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ إِلَّا لِأَنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو دَاوُدَ الرَّاوِي عَنِ الْبَرَاءِ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوداؤد بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا اور میرے ساتھ مسکرا کے ملے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں نے تمہارا ہاتھ کیوں پکڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، لیکن مجھے یہ اندازہ ہے کہ آپ نے کسی بھلائی کی وجہ سے ہی ایسا کیا ہو گا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، تو جب وہ ایسا کرتے ہیں ، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والا شخص ابوداؤد متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12770
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (531)»
حدیث نمبر: 12771
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، تَحَاتَّتْ عَنْهُمَا ذُنُوبُهُمَا ، كَمَا يَتَحَاتُّ الْوَرَقُ عَنِ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ ، وَإِلَّا غُفِرَ لَهُمَا ، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح تیز ہوا والے دن میں خشک درخت کے پتے گر جاتے ہیں ، اور ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ ان دونوں کے گناہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سالم بن غیلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6150)»
حدیث نمبر: 12772
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا تَصَافَحَ الْمُسْلِمَانِ لَمْ تُفْرَقْ أَكُفُّهُمَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب دو مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کی ہتھیلیاں جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن علاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7076)»