کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی قوم کو سلام کرتا ہے ، اور وہ لوگ بھلائی میں یا کسی اور معاملے میں مشغول ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 12759
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ : قَالَ أَبِي : ¤ " إِذَا مَرَرْتَ بِمَجْلِسٍ فَسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ ، فَإِنْ يَكُونُوا فِي خَيْرٍ كُنْتَ شَرِيكَهُمْ ، وَإِنْ يَكُونُوا فِي غَيْرِ ذَلِكَ كَانَ لَكَ أَجْرٌ " . ¤ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھ سے کہا: جب تم کسی محفل سے گزرو تو اس محفل والوں کو سلام کرو ، اگر وہ بھلائی کر رہے ہوں گے تو تم ان کے شراکت دار بن جاؤ گے ، اور اگر وہ اس کے علاوہ صورت حال پر ہوں گے تو تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12760
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ¤ يَا بُنَيَّ ، إِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ تَرْجُو خَيْرَهُ ، فَعَجَّلَتْ بِكَ حَاجَةٌ ، فَقُلِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّكَ شَرِيكُهُمْ فِيمَا يَصِيبُونَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِسِطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ اپنے والد کے بارے میں نقل کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! جب تم کسی محفل میں ہو ، اور تمہیں اس کی بھلائی کی امید ہو ، اور تمہیں کسی کام کے سلسلے میں جلدی اٹھنا پڑے ، تو تم السلام علیکم کہو ، کیونکہ اس محفل میں ان لوگوں کو جو بھی اجر و ثواب حاصل ہو گا ، تم اس میں شریک ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔