مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُسَنُّ الْبُدَاءَةُ بِالسَّلَامِ مِنَ الرَّاكِبِ وَغَيْرِهِ باب: سوار ، یا اس کے علاوہ میں سے ، کس کے لئے سلام میں پہل کرنے کو مسنون قرار دیا گیا ہے ؟
وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ : أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " . قَالُوا : أَوَ لَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَبَنَاتُنَا وَأَخَوَاتُنَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطَيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِنِ ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ ، وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ ، وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ ، فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوسلام بیان کرتے ہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو باتیں سنی ہیں ، ان کے حوالے سے لوگوں کو تعلیم دیں ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو ، تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو ، اس کو چھوڑو نہیں ، اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے مال میں اضافہ نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تاجر لوگ ہی گنہگار ہوتے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن وہ لوگ حلف ( یعنی جھوٹی قسمیں ) اٹھاتے ہیں ، اور گنہگار ہوتے ہیں ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : فاسق لوگ ہی جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عورتیں ۔ لوگوں نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں ، ہماری بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن ان کا یہ عالم ہے کہ جب انہیں کچھ دیا جائے ، تو وہ شکرگزار نہیں ہوتی ہیں ، اور جب وہ آزمائش کا شکار ہو جائیں تو صبر نہیں کرتی ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سوار شخص پیدل شخص کو سلام کرے ، پیدل بیٹھے ہوئے شخص کو کرے ، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو کریں ، جو شخص سلام کا جواب دیدے گا ، تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور جو جواب نہیں دے گا ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔