کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا لَهُ تَوْبَةٌ ، إِلَّا صَاحِبَ سُوءِ الْخُلُقِ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَتُوبُ مِنْ ذَنْبٍ إِلَّا عَادَ فِي شَرٍّ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ہر کام کے لئے توبہ کی گنجائش ہوتی ہے البتہ برے اخلاق والے شخص کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ جب بھی وہ کسی ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے ، تو دوبارہ اس سے زیادہ برا گناہ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12697
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (553)»
قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نحوست ، برے اخلاق ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (85/6)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الشُّؤْمُ ؟ قَالَ : " سُوءُ الْخُلُقِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! نحوست کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : برے اخلاق ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ النَّاسِ الضَّيِّقُ عَلَى أَهْلِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَكُونُ ضَيِّقًا عَلَى أَهْلِهِ ؟ قَالَ : " الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ خَشَعَتِ امْرَأَتُهُ ، وَهَرَبَ وَلَدُهُ وَفَرَّ ، فَإِذَا خَرَجَ ضَحِكَتِ امْرَأَتُهُ ، وَاسْتَأْنَسَ أَهْلُ بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لئے زیادہ تنگی والا ہو ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اپنے اہلِ خانہ کے لئے کیسے تنگی والا ہو گا ؟ “ آپ نے ارشاد فرمایا : ” آدمی جب گھر میں داخل ہو ، تو اس کی بیوی اس سے خوف زدہ ہو ، اس کا بچہ اسے چھوڑ کر بھاگے اور فرار ہو جائے اور جب وہ باہر چلا جائے تو اس کی بیوی بھی بنسنے لگے ، اور اس کے اہل خانہ بھی آرام محسوس کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بن صلت ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12700
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً