حدیث نمبر: 12700
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ النَّاسِ الضَّيِّقُ عَلَى أَهْلِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَكُونُ ضَيِّقًا عَلَى أَهْلِهِ ؟ قَالَ : " الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ خَشَعَتِ امْرَأَتُهُ ، وَهَرَبَ وَلَدُهُ وَفَرَّ ، فَإِذَا خَرَجَ ضَحِكَتِ امْرَأَتُهُ ، وَاسْتَأْنَسَ أَهْلُ بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لئے زیادہ تنگی والا ہو ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اپنے اہلِ خانہ کے لئے کیسے تنگی والا ہو گا ؟ “ آپ نے ارشاد فرمایا : ” آدمی جب گھر میں داخل ہو ، تو اس کی بیوی اس سے خوف زدہ ہو ، اس کا بچہ اسے چھوڑ کر بھاگے اور فرار ہو جائے اور جب وہ باہر چلا جائے تو اس کی بیوی بھی بنسنے لگے ، اور اس کے اہل خانہ بھی آرام محسوس کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بن صلت ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12700
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً