کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12657
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! تو نے میری ظاہری تخلیق کو عمدہ کیا ہے ، تو میرے اخلاق کو بھی عمدہ رکھنا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12657
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (68/6)»
حدیث نمبر: 12658
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُسْنُ الْخُلُقِ خَلْقُ اللَّهِ الْأَعْظَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھے اخلاق اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ عظمت والی تخلیق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12658
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12659
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ ، عَنِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ : " إِنَّ هَذَا دِينٌ ارْتَضَيْتُهُ لِنَفْسِي ، وَلَنْ يَصْلُحَ لَهُ إِلَّا السَّخَاءُ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، فَأَكْرِمُوهُ بِهِمَا مَا صَحِبْتُمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكَذَلِكَ مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” یہ دین ، میں اس کے اپنے لئے ہونے سے راضی ہوں اور اس کے لئے صرف سخاوت اور اچھے اخلاق مناسب ہیں ، تو تم ان دونوں کے ذریعے اس دین کی عزت افزائی کرو اور اس کے ساتھ رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوبکر بن منکدر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ مقدام بن داؤد نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12660
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اسْتَخْلَصَ هَذَا الدِّينَ لِنَفْسِهِ ، وَلَا يَصْلُحُ لِدِينِكُمْ إِلَّا السَّخَاءُ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، أَلَا فَزَيِّنُوهُ بِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دین کو اپنی ذات کے لئے خالص کر لیا ہے اور تمہارے دین کے لئے صرف سخاوت اور اچھے اخلاق ہی مناسب ہیں ، تو تم ان دونوں کے ذریعے دین کو آراستہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12660
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1590/18)»
حدیث نمبر: 12661
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مَنَحَهُ خُلُقًا حَسَنًا ، وَمَنْ أَرَادَ بِهِ سُوءًا مَنَحَهُ سَيِّئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اخلاق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، اسے اچھے اخلاق عطا کر دیتا ہے ، اور جس شخص کے بارے میں برائی کا ارادہ کرتا ہے ، اسے برے اخلاق عطا کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10896)»
حدیث نمبر: 12662
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوْحَى اللَّهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ : يَا خَلِيلِي ، حَسِّنْ خُلُقَكَ وَلَوْ مَعَ الْكُفَّارِ ، تَدْخُلْ مَدْخَلَ الْأَبْرَارِ ، وَإِنَّ كَلِمَتِي سَبَقَتْ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ أَنْ أُظِلَّهُ تَحْتَ عَرْشِي ، وَأَنْ أَسْقِيَهُ مِنْ حَظِيرَةِ قُدْسِي ، وَأَنْ أُدْنِيَهُ مِنْ جِوَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی : اے میرے خلیل ! تم اپنے اخلاق کو اچھے رکھو ، خواہ کافروں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، تم نیک لوگوں کی جگہ پر داخل ہو جاؤ گے ، اور میرا فرمان ان لوگوں کے لئے سبقت لے جا چکا ہے ، جن کے اخلاق اچھے ہوں کہ میں انہیں اپنے عرش کے ساتھ رکھوں گا ، اور میں انہیں اپنے حظيرة القدس سے پلاؤں گا ، اور انہیں اپنے پڑوس میں رکھوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن عبدالرحمن ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12663
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا حَسَّنَ اللَّهُ خَلْقَ رَجُلٍ وَخُلُقَهُ فَيُطْعِمُهُ النَّارَ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس بھی شخص کے اخلاق اور ظاہری خلقت کو اللہ تعالیٰ نے اچھا رکھا ہو ، اللہ تعالیٰ اسے کبھی جہنم میں نہیں ڈالے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12664
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا يَهْدِي أَحْسَنَ الْأَخْلَاقِ وَيَصْرِفُ سَيِّئَهَا هُوَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا اور برے اخلاق کو پھیرنے والا وہی ( یعنی اللہ تعالیٰ ) ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12664
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12665
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ ، وَأَبْعَدَكُمْ عَنِّي فِي الْآخِرَةِ أَسَاوِئُكُمْ أَخْلَاقًا ، الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ اور روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخرت میں میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ، اور آخرت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور تم میں سے مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق برے ہوں گے ، وہ لوگ جو بکثرت کلام کرنے والے اور بنا سنوار کے منہ چبا چبا کے باتیں کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (193/4)»
حدیث نمبر: 12666
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[ وَ ] أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " . فَأَعَادَهَا ثَلَاثًا أَوْ مَرَّتَيْنِ . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں گے ، اور تم میں سے بیٹھنے کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریب ہوں گے ؟ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا شاید دو مرتبہ دہرائی ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں صرف یہ الفاظ منقول ہیں : ” میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے عمدہ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6735 و 7035)»
حدیث نمبر: 12667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ " . ¤ قُلْتُ لِابْنِ بَهْدَلَةَ : مَا الْمُتَفَيْهِقُونَ ؟ قَالَ : " الْمُتَكَبِّرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ الرَّمَادِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہوں گے جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہوں گے ، اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ لوگ ہوں گے جو چبا چبا کر بنا سنوار کے باتیں کریں گے ( یا تکبر کا اظہار کریں گے ) ۔ “ اس روایت کے ایک راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد ابن بہدلہ سے دریافت کیا : لفظ متفیہقون سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تکبر کرنے والے لوگ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہوں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” جن کے اطراف بچھے ہوئے ہوں ( یعنی وہ نرمی اختیار کئے ہوں ) ۔ “
امام بزار کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ رمادی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1969) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10424)»
حدیث نمبر: 12668
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ . وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْمُلْتَمِسُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَيْبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے میرے زیادہ محبوب وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ، اور جن کے اطراف بچھے ہوئے ہوں گے ، جو الفت رکھتے ہوں گے اور ان سے الفت رکھی جاتی ہو گی ، اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ لوگ ہوں گے جو چغلی کرنے والے ہوں گے ، اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے ہوں گے ، اور لوگوں کے عیوب تلاش کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (835)»
حدیث نمبر: 12669
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَاسِنُهُمْ أَخْلَاقًا ، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقَلْزَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل ایمان میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ، اور جن کے اطراف بچھے ہوئے ہوں گے جو ( لوگوں کے ساتھ ) الفت رکھتے ہوں گے ، اور ان سے الفت رکھی جاتی ہو گی اور وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ( جو لوگوں کے ساتھ ) الفت نہ رکھتا ہو ، اور اس کے ساتھ الفت نہ رکھی جاتی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد قلزمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12669
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (605)»
حدیث نمبر: 12670
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ بِحُسْنِ خُلُقِهِ ، وَكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اچھے اخلاق والا مسلمان روزہ دار اور نوافل پڑھنے والے شخص کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے یہ اس کے اچھے اخلاق کی وجہ سے اور نرم طبیعت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6648)»
حدیث نمبر: 12671
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ - وَكَانَ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَاءٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ ، وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمْرِ ، وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السُّوءِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ : " سُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ بَعْضِ بَنِي رَافِعٍ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھے اخلاق نمونے کا باعث ہیں اور برے اخلاق نحوست ہیں ، نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے اور صدقہ بری موت کو روک دیتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے صرف یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” برے اخلاق نحوست ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ان صاحب کا نام بیان نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (502/3)»
حدیث نمبر: 12672
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ ، وَطُولِ الصَّمْتِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا تَجَمَّلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا میں تمہاری رہنمائی دو خصلتوں کی طرف نہ کروں ، جو کرنے کے اعتبار سے ہلکی ہیں اور میزان میں ان کے علاوہ باقی چیزوں سے زیادہ بھاری ہوں گی ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر اچھے اخلاق اختیار کرنا اور زیادہ تر خاموش رہنا لازم ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مخلوق نے ان جیسی چیزوں سے آراستگی اختیار نہیں کی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3573) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3298) أخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (7245)»
حدیث نمبر: 12673
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَإِنَّ حُسْنَ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ دَرَجَةَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ الطَّائِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور اچھے اخلاق کے ذریعے آدمی نماز اور روزے کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی ابومالک طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (35) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4166)»
حدیث نمبر: 12674
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُبَلِّغَ الْعَبْدَ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّوْمِ وَالصَّلاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ آدمی کے اچھے اخلاق کے ذریعے اسے نماز اور روزے کے درجہ تک پہنچا دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12674
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12675
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ لَنْ تَسَعُوا النَّاسَ بِأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ لَيَسَعُهُمْ مِنْكُمْ بَسْطُ الْوَجْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : " وَحُسْنُ الْخُلُقِ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے اموال کے حوالے سے لوگوں کے لئے گنجائش والے نہیں ہوتے ہو ، بلکہ خندہ پیشانی کی وجہ سے ان کے لئے گنجائش والے ہوتے ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” اور اچھے اخلاق ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1979 1978 و 1977) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6550)»
حدیث نمبر: 12676
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " . أَوْ قَالَ : " أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں لوگوں نے عرض کی : جی ہاں آپ نے ارشاد فرمایا : زیادہ اچھے اخلاق والے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو تم میں سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہیل بن ابوحزم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12676
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1970)»
حدیث نمبر: 12677
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کی عمر سب سے زیادہ طویل ہو اور اخلاق زیادہ اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1971) اخرجه احمد فى المسند (9224 و 7211)»
حدیث نمبر: 12678
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ ، وَإِنَّ حُسْنَ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِصَاحِبِهِ دَرَجَةَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میزان میں کوئی ایسی چیز نہیں رکھی جائے گی جو اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی ہو ، اور اچھا اخلاق اپنے متعلقہ فرد کو نماز اور روزے کے درجہ تک پہنچا دے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1975)»
حدیث نمبر: 12679
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ ، لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًا ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَحَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کے اطراف کے حصے میں ایک گھر کا اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا اور جنت کے بالائی حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو بحث کرنے کو ترک کر دیتا ہے ، اگرچہ وہ حق پر ہو ، اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اگرچہ وہ مزاح کے طور پر ہو ، اور جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ تمیمی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (805) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11020)»
حدیث نمبر: 12680
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَاهَا ، وَبِبَيْتٍ فِي أَسْفَلِهَا ، لِمَنْ تَرَكَ الْجَدَلَ وَهُوَ مُحِقٌّ ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ ضَاحِكٌ ، وَحَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو حَاتِمٍ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں جنت کے باغات میں ایک گھر کا اور اس کے بالائی حصے میں ایک گھر کا اور اس کے زیریں حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو حق پر ہونے کے باوجود بحث کو ترک کر دیتا ہے ، اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے ، جبکہ وہ مذاق کے طور پر ہو ، اور اس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابوحاتم سوید بن ابراہیم ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11290)»
حدیث نمبر: 12681
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْتٌ فِي غُرَفِ الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٌ فِي فِنَاءِ الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٌ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَلِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ، وَلِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک گھر جنت کے بالاخانوں میں ، ایک گھر جنت کے اطراف کے حصے میں اور ایک گھر جنت کے درمیانی حصے میں ہو گا ، اس شخص کے لئے جو جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے ، خواہ وہ مزاح کے طور پر ہی کیوں نہ ہو ، اور بحث کو ترک کر دیتا ہے ، خواہ وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو ، اور اس شخص کے لئے جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن سلیم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1976)»
حدیث نمبر: 12682
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُحْمَدَ ، كَأَنَّهُ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحِبَّ أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتَمُوتَ سَعِيدًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ عَلَى إِتْمَامِ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ بِمَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْجُدْعَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں اور اس بات کو بھی پسند کرتا ہوں کہ میری تعریف کی جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : گویا اس شخص نے اپنی ذات کے حوالے سے ( تکبر کے حوالے سے ) اندیشے کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے لے کیا چیز رکاوٹ ہے کہ تم اس بات کو پسند کرو کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور سعادت مندی والی موت مر جاؤ ، مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” مجھے عمدہ اخلاق کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر جدعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1973) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (65/20)»
حدیث نمبر: 12683
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى قَوْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . فَقَالَ : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ ، وَاسْتَحِي مِنَ اللَّهِ اسْتِحْيَاءَ رَجُلٍ ذِي هَيْبَةٍ مِنْ أَهْلِكَ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ مَا اسْتَطَعْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قوم کی طرف بھیجا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سلام کو پھیلانا ، کھانا خرچ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرنا جس طرح اپنے خاندان کے کسی بارعب شخص سے حیاء کرتے ہو ، اور جب تم برائی کر لو تو اچھائی کرنا اور جہاں تک ہو سکے اپنے اخلاق کو اچھا رکھنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1972) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8022)»
حدیث نمبر: 12684
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي . قَالَ : " إِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي . قَالَ : " اسْتَقِمْ ، وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وَثَّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَأَبُو السَّمِيطِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے ، آپ نے فرمایا : جب تم برائی کر لو تو اچھائی کر لینا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مزید عطا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سیدھے رہنا اور اپنے اخلاق اچھے رکھنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک راوی ابوسمیط سعید بن ابوسوید ہے جو مہری کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (39/20)»
حدیث نمبر: 12685
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ يَكُونُ لَهَا زَوْجَانِ ثُمَّ تَمُوتُ ، فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ هِيَ وَزَوْجَاهَا ، لِأَيِّهِمَا تَكُونُ لِلْأَوَّلِ أَوْ لِلْآخَرِ ؟ قَالَ : " تُخَيَّرُ أَحْسَنُهُمَا خُلُقًا كَانَ مَعَهَا فِي الدُّنْيَا يَكُونُ زَوْجَهَا فِي الْجَنَّةِ ، يَا أُمَّ حَبِيبَةَ ، ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ رَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَهُوَ أَسْوَأُ أَهْلِ الْإِسْنَادِ حَالًا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي النِّكَاحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات ( دنیا میں ) کسی عورت کے دو شوہر رہے ہوتے ہیں ، پھر وہ عورت انتقال کر جاتی ہے ، اور جنت میں داخل ہو جاتی ہے ، اور اس کے دونوں شوہر بھی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، تو وہ عورت ان دونوں میں سے کس کو ملے گی ، پہلے والے شوہر کو ؟ یا دوسرے والے شوہر کو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ دنیا میں جو شخص اس کے ساتھ زیادہ اچھے اخلاق کے ساتھ تھا ، وہی جنت میں اس کا شوہر ہو گا ۔ اے اُمّ حبیبہ ! اچھے اخلاق دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابوحاتم اس سے راضی تھے اور حالت کے اعتبار سے ، سند میں وہ تمام راویوں سے برا ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1980) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (222/23)»
حدیث نمبر: 12686
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ التَّحَبُّبُ إِلَى النَّاسِ " . قَالَ : وَبِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا مِنَ اللَّهِ " . قِيلَ : وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حِلْمٌ يَرُدُّ بِهِ جَهْلَ الْجَاهِلِ ، وَحُسْنُ خُلُقٍ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ كُلُّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد سب سے زیادہ سمجھ داری لوگوں سے محبت رکھنا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں نہیں ہوں گی اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی بردباری جس کے ذریعے وہ جاہل کی جہالت کو پرے کر سکے اور ایسے اچھے اخلاق جن کے ہمراہ وہ لوگوں سے ملے اور ایسی پرہیزگاری جو اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک کے رکھے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، میں جن سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (706 و 705)»
حدیث نمبر: 12687
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِالْحِلْمِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُكْتَبُ جَبَّارًا وَمَا يَمْلِكُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی بردباری کے ذریعے روزہ دار اور نوافل پڑھنے والے شخص کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے ، اور کبھی کوئی شخص متکبر ہونے کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے حالانکہ وہ صرف اپنے اہل خانہ کا مالک ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12687
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12688
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفَاضِلُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ مِنَ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ فضیلت والے وہ لوگ ہیں ، جو زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں اور اچھے اخلاق کا ہونا ایمان کا حصہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7756)»
حدیث نمبر: 12689
وَعَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَإِنَّ مِنْ أَقْرَبِكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اور دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12689
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني في حديث طويل بإسنادين ورجال أحدهما ثقات.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7737)»
حدیث نمبر: 12690
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ يُذِيبُ الْخَطَايَا كَمَا يُذِيبُ الْمَاءُ الْجَلِيدَ ، وَالْخُلُقُ السُّوءُ يُفْسِدُ الْعَمَلُ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھے اخلاق گناہوں کو یوں پگھلا دیتے ہیں جس طرح پانی ، جمے ہوئے پانی کو پگھلا دیتا ہے ، اور برے اخلاق عمل کو یوں خراب کر دیتے ہیں ، جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (854) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10777)»
حدیث نمبر: 12691
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ فَقَالُوا : مَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ أَخْلَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، یوں لگتا تھا جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہیں ، ہم میں سے کوئی شخص کلام نہیں کر رہا تھا ، اسی دوران کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (369) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (475 و 470 و 471)»
حدیث نمبر: 12692
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَبْلُغُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ عَظِيمَ دَرَجَاتِ الْآخِرَةِ وَشَرِيفَ الْمَنَازِلِ ، وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْعِبَادَةِ ، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ بِسُوءِ خُلُقِهِ أَسْفَلَ دَرَجَةٍ فِي جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : إِنَّهُ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے آخرت کے عظیم درجات اور شریف منازل تک پہنچ جاتا ہے حالانکہ وہ عبادت کے اعتبار سے کمزور ہوتا ہے ، اور بعض اوقات وہ اپنے برے اخلاق کی وجہ سے جہنم کے نیچے والے درجہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن دقیق العید ” امام “ یہ فرماتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (754)»
حدیث نمبر: 12693
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمُرَةُ وَأَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ : " إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ فِي شَيْءٍ ، وَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَابْنُهُ وَقَالَ : " وَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک محفل میں موجود تھا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فحاشی اور فحش کلامی ، یہ دونوں اسلام سے کوئی واسطہ نہیں رکھتی ہیں ، لوگوں میں سب سے زیادہ عمدہ اسلام والا شخص وہ ہے ، جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے بھی نقل کیا ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : ” لوگوں میں سب سے بہتر اسلام والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7468) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2072) اخرجه احمد فى المسند 89/5)»
حدیث نمبر: 12694
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ ، الظَّامِئِ بِالْهَوَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اپنے اچھے اخلاق کے ذریعے رات کے وقت نفل پڑھنے والے اور دن کے وقت پیاسے رہنے والے ( یعنی نفلی روزہ دار ) کے مرتبے تک پہنچ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7709)»
حدیث نمبر: 12695
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُوَثَّقُ مِنْ رِجَالِ الْكُتُبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : لوگوں میں کون زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جو کتابوں کے رجال میں سے ہیں لیکن ان کی توثیق نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12696
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي قَالَ : " عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ ، فَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا أَحْسَنُهُمْ دِينًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اچھے اخلاق اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ لوگوں میں زیادہ اچھے اخلاق کے مالک لوگ ہی زیادہ اچھے دین دار ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12696
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/20)»