کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نرمی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَأَبُو خَلِيفَةَ لَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے ، اور وہ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوخلیفہ نامی راوی کو کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (490) اخرجه احمد فى المسند (112/1)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ رفیق ہے ۔ وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے ، جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (221) أخرجه البزار فى المسند (1962 و 1961)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا كَانَ الْخُرْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نرمی جس بھی چیز میں ہو گی اسے آراستہ کر دے گی اور سختی جس بھی چیز میں ہو گی ، اسے معیوب کر دے گی ، بے شک اللہ تعالی رفیق ہے ، اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن حبیب ہے ، جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1963)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْجُدْعَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ رفیق ہے ۔ وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے ، جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر جدعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1964)»
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْخُرْقِ ، وَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الرِّفْقَ ، مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُحْرَمُونَ الرِّفْقَ إِلَّا حُرِمُوا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے ، جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے ، تو اسے نرمی عطا کر دیتا ہے ، جس بھی گھرانے کے لوگ نرمی سے محروم رہیں وہ حقیقی محروم ہوتے ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں
یہ روایت مذکور ہے ، جس میں صرف یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ بھلائی سے محروم رہا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (62458)»
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الرِّفْقُ فِيهِ الزِّيَادَةُ وَالْبَرَكَةُ [ وَمَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” نرمی میں اضافہ اور برکت ہے ، اور جو شخص نرمی سے محروم رہے وہ بھلائی سے محروم ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12644
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَاهُ ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن معدان اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ رفیق ہے ۔ وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی سے راضی ہوتا ہے ، اور نرمی پر اس طرح مدد کرتا ہے ، جو مدد وہ سختی پر نہیں کرتا ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12645
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (365/20)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا كَانَتِ الْأَرْضُ مُخْصِبَةً فَتَقَصَّرُوا فِي السَّيْرِ ، وَأَعْطُوا الرِّكَابَ حَقَّهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب زمین ہریالی ہو ، تو تم آرام سے سفر کرو اور سواریوں کو ان کا حق دو ، بے شک اللہ تعالیٰ مہربان ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12646
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10811)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَاهُ ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نرمی سے محبت کرتا ہے ، اور اس سے راضی ہوتا ہے ، اور نرمی پر وہ مدد کرتا ہے ، جو مدد وہ سختی پر نہیں کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے ابوحاتم رازی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7477)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، ارْفُقِي ، فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا دَلَّهُمْ عَلَى [ بَابِ ] الرِّفْقِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان کی رہنمائی نرمی کی طرف کرتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (104/6)»
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الرِّفْقَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے کے بارے میں بھلائی کا ارداہ کر لے تو ان پر نرمی کو داخل کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (71/6)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهَا فَحْمَةٌ صَعْبَةٌ لَمْ تُخْطَمْ ، فَمَسَحَهَا ثُمَّ دَعَا لِي عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، ارْكَبِي وَارْفُقِي " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سیاہ اونٹنی عطا کی ، جو سواری کے اعتبار سے دشوار تھی ، اس میں لگام بھی نہیں ڈالی گئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا پھر آپ نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! سوار ہو جاؤ اور نرمی سے کام لینا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے اسے مارنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1966)»
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الرِّفْقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو ان پر نرمی کو داخل کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1965)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " التَّأَنِّي مِنَ اللَّهِ ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَمَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مَعَاذِيرَ مِنَ اللَّهِ ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْحَمْدِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اطمینان سے کام کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ، اور جلدبازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ معذرت قبول کرنے والا اور کوئی نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک حمد سے زیادہ پسندیدہ چیز اور کوئی نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4296)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرِّفْقُ يُمْنٌ ، وَالْخُرْقُ شُؤْمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عُرْفَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نرمی برکت ہے ، اور سختی نحوست ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12653
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أُعْطِيَ أَهْلُ بَيْتٍ الرِّفْقَ إِلَّا نَفَعَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ السَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس بھی گھرانے کو نرمی عطا کی گئی اس نے انہیں فائدہ ہی دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابراہیم بن حجاج سامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12369)»
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَأَنَّى أَصَابَ أَوْ كَادَ ، وَمَنْ عَجَّلَ أَخْطَأَ أَوْ كَادَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جَابِرٍ وَأَنَسٍ فِي الْبَيْعِ فِي السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اطمینان سے کام کرتا ہے وہ نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ، اور جو شخص جلدبازی کرتا ہے وہ غلطی کرتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ وہ مقارب الحال ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں بھی ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ، جو خرید و فروخت کرتے ہوئے نرمی کرنے سے متعلق ہے ، اور کتاب البیوع میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح