مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّفْقِ باب: نرمی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَأَنَّى أَصَابَ أَوْ كَادَ ، وَمَنْ عَجَّلَ أَخْطَأَ أَوْ كَادَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جَابِرٍ وَأَنَسٍ فِي الْبَيْعِ فِي السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اطمینان سے کام کرتا ہے وہ نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ، اور جو شخص جلدبازی کرتا ہے وہ غلطی کرتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ وہ مقارب الحال ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں بھی ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ، جو خرید و فروخت کرتے ہوئے نرمی کرنے سے متعلق ہے ، اور کتاب البیوع میں گزری ہے ۔