کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بغیر میان کے تلوار ، ایک دوسرے کو دینے کی ممانعت
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا . أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو ایک دوسرے کو ننگی تلواریں پکڑا رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو ایسا کرتا ہے ، کیا تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا گیا ؟ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، وہ اُس کی طرف دیکھے ، پھر وہ تلوار اپنے بھائی کو پکڑانے کا ارادہ کرے ، تو پہلے اسے میان میں ڈالے ، پھر وہ اُس کو پکڑائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ بَنَّةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ - أَوْ فِي الْمَجْلِسِ - يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ - يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ - غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، لَوْ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا ، فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بنہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی محفل میں ، کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میان سے نکالی ہوئی تھیں ، اور وہ ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے ، جو میان کے بغیر تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اگر میں نے تمہیں اس سے پہلے منع نہ کیا ہوتا ( تو میں تمہیں سزا دیتا ) جب تم نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو آدمی پہلے اسے میان میں ڈالے اور پھر وہ دوسرے شخص کو اس حالت میں دے ( کہ وہ تلوار میان میں موجود ہو ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَزْجُرْ عَنْ هَذَا ؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میانوں سے نکالی ہوئی تھیں اور وہ میان میں ڈالے بغیر ایک دوسرے کو وہ تلواریں پکڑا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے اس سے تمہیں منع نہیں کیا ہے ؟ اگر تم میں سے کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو وہ پہلے اُسے میان میں ڈالے اور پھر وہ اس کو اپنے بھائی کو دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔