مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَعَاطِي السَّيْفِ مَسْلُولًا . باب: بغیر میان کے تلوار ، ایک دوسرے کو دینے کی ممانعت
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَزْجُرْ عَنْ هَذَا ؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میانوں سے نکالی ہوئی تھیں اور وہ میان میں ڈالے بغیر ایک دوسرے کو وہ تلواریں پکڑا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے اس سے تمہیں منع نہیں کیا ہے ؟ اگر تم میں سے کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو وہ پہلے اُسے میان میں ڈالے اور پھر وہ اس کو اپنے بھائی کو دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔