مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَعَاطِي السَّيْفِ مَسْلُولًا . باب: بغیر میان کے تلوار ، ایک دوسرے کو دینے کی ممانعت
وَعَنْ بَنَّةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ - أَوْ فِي الْمَجْلِسِ - يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ - يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ - غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، لَوْ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا ، فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا بنہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی محفل میں ، کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میان سے نکالی ہوئی تھیں ، اور وہ ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے ، جو میان کے بغیر تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اگر میں نے تمہیں اس سے پہلے منع نہ کیا ہوتا ( تو میں تمہیں سزا دیتا ) جب تم نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو آدمی پہلے اسے میان میں ڈالے اور پھر وہ دوسرے شخص کو اس حالت میں دے ( کہ وہ تلوار میان میں موجود ہو ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔