حدیث نمبر: 12265
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا . أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو ایک دوسرے کو ننگی تلواریں پکڑا رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو ایسا کرتا ہے ، کیا تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا گیا ؟ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، وہ اُس کی طرف دیکھے ، پھر وہ تلوار اپنے بھائی کو پکڑانے کا ارادہ کرے ، تو پہلے اسے میان میں ڈالے ، پھر وہ اُس کو پکڑائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (41/5)»