حدیث نمبر: 12140
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُدْخِلَ رَجُلٌ فِي قَبْرِهِ ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَقَالَا لَهُ : إِنَّا ضَارِبُوكَ ضَرْبَةً . فَقَالَ لَهُمَا : عَلَى مَا تَضْرِبَانِي ؟ فَضَرَبَاهُ ضَرْبَةً امْتَلَأَ قَبْرُهُ مِنْهَا نَارًا ، ثُمَّ تَرَكَاهُ حَتَّى أَفَاقَ وَذَهَبَ عَنْهُ الرُّعْبُ ، فَقَالَ لَهُمَا : عَلَى مَا ضَرَبْتُمَانِي ؟ فَقَالَا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً وَأَنْتَ عَلَى غَيْرِ طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ بِرَجُلٍ مَظْلُومٍ فَلَمْ تَنْصُرْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ایک شخص کو قبر میں اتارا گیا ، دو فرشتے اس کے پاس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا: ہم تم پر ایسی ضرب لگائیں گے ، تو اس شخص نے ان سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں مجھ پر ضرب لگاؤ گے ؟ ان دونوں نے اس پر ضرب لگائی جس کی وجہ سے اس کی قبر آگ سے بھر گئی ، پھر ان دونوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب اسے افاقہ ہوا اور اس کا رعب ختم ہوا تو اس نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں نے مجھے کیوں ضرب لگائی ہے ؟ تو دونوں فرشتوں نے کہا: تم نماز پڑھتے تھے جبکہ تم بے وضو ہوتے تھے ( یا مکمل طور پر پاک نہیں ہوتے تھے ) اور تم ایک مظلوم شخص کے پاس سے گزرے تھے اور تم نے اُس کی مدد نہیں کی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13610)»