حدیث نمبر: 12122
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَهِدْتُ حِلْفَ بَنِي هَاشِمٍ وَزُهْرَةَ وَتَيْمٍ فَمَا يَسُرُّنِي أَنْ نَعْصِيَهُ وَلِي حُمْرُ النَّعَمِ ، وَلَوْ دُعِيتُ لَهُ الْيَوْمَ لَأَجَبْتُ عَلَى أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَأْخُذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَهُ طَرِيقٌ آخَرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بنو ہاشم بنو زہرہ اور بنو تیم کے حلف کے وقت موجود تھا ، اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں ، اگرچہ اس کے بدلے میں ، مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں ، اگر آج بھی مجھے اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، تو میں جاؤں گا ، اس شرط پر کہ نیکی کا حکم دیا جائے ، برائی سے منع کیا جائے ، اور ظالم سے مظلوم کا حق لیا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ۔
حدیث نمبر: 12123
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ قَالَ : " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ وَنَهْيًا عَنِ الْمُنْكَرِ وَذِكْرَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، وہ ملعون ہے ، البتہ نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور اللہ کے ذکر کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن مطرف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن مطرف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 12124
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَأَبُو ذَرٍّ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَجُلٌ آخَرُ عَلَى أَنْ لَا تَأْخُذَهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اور ایک اور صحابی نے ، اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اُن پر اثر انداز نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12125
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ حَدَّثَ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : اصْطَحَبَ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ وَكَعْبٌ حَتَّى إِذَا بَلَغَا صِفِّينَ وَقَفَ كَعْبٌ سَاعَةً فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، لَيُهْرَقَنَّ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ شَيْءٌ لَا يُهْرَاقُ بِبُقْعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ . فَغَضِبَ قَيْسٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ مَا هَذَا ؟ هَذَا مِنَ الْغَيْبِ الَّذِي اسْتَأْثَرَ اللَّهُ بِهِ . فَقَالَ كَعْبٌ : مَا مِنَ الْأَرْضِ شِبْرٌ إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى مَا يَكُونُ عَلَيْهِ وَمَا يَخْرُجُ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ : وَمَنْ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، وَمَا تَعْرِفُهُ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بِلَادِكَ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ . قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ خَرَشَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أُبَايِعُكَ عَلَى مَا جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا قَيْسُ ، عَسَى إِنْ مَدَّ بِكَ الدَّهْرُ أَنْ يَلِيَكَ بَعْدِي وُلَاةٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُولَ بِالْحَقِّ مَعَهُمْ " . قَالَ قَيْسٌ : وَاللَّهِ لَا أُبَايِعُكَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا وَفَيْتُ لَكَ بِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذًا لَا يَضُرُّكَ شَيْءٌ " . قَالَ : فَكَانَ قَيْسٌ يَعِيبُ عَلَى زِيَادٍ وَابْنِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ مَنْ يَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ ، مَنْ تَرَكَ الْعَمَلَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : محمد بن یزید بن ابوزید نے یہ بات بیان کی ہے : ” ایک مرتبہ قیس بن خرشہ اور کعب ایک ساتھ تھئے ، یہ دونوں صفین کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں کعب گھڑی بھر کے لئے ٹھہر گئے اور بولے : اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس مقام پر مسلمانوں کا خون ضرور بہایا جائے گا کہ اتنا خون زمین کے کسی اور حصے میں نہیں بہایا جائے گا ، تو قیس غصے میں آ گئے اور بولے : اے ابواسحاق ! تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ تو وہ غیب ہے ، جس کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا ہے ، تو کعب نے فرمایا : روئے زمین کا کوئی ایک بالشت ایسا نہیں ہے ، جس کا ذکر اس ” تورات “ میں نہ ہو ، جس کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا ، زمین پر جو کچھ ہو گا اور جو قیامت تک اس میں سے نکلے گا ( اُن سب کا ذکر اس میں ہے ) ۔ محمد بن یزید نے دریافت کیا : قیس بن خرشہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں ، تم انہیں نہیں جانتے ، حالانکہ وہ تمہارے علاقے کے آدمی ہیں ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں انہیں نہیں جانتا ، تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا قیس بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کی : میں اس چیز پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ، اور اس بات پر بھی بیعت کرنے کے لئے کہ میں حق بات کہوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قیس ! ہو سکتا ہے کہ جب طویل زمانہ گزر جائے اور میرے بعد ایسے لوگ حکمران بن جائیں کہ تم ان کے سامنے حق نہ کہہ سکو ۔ “ قیس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں کسی چیز پر آپ کی بیعت نہیں کروں گا ، مگر یہ کہ آپ کی خاطر اسے پورا بھی کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ ، زیاد اور اُس کے بیٹے عبیداللہ بن زیاد پر تنقید کیا کرتے تھے ، اس نے انہیں پیغام بھیج کر بلایا اور کہا: کیا تم وہ شخص ہو کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟ تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بات بتا دیتا ہوں کہ کون شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، یہ وہ شخص ہے جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کو ترک کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حدیث نمبر: 12126
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنِّي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَوْصَانِي بِقَوْلِ الْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَوْصَانِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا ، وَأَوْصَانِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والی ملامت ، مجھ پر اثر انداز نہ ہو ، اور میں اُس کا جائزہ لوں کہ جو شخص مجھ سے نیچے ہے ، اس کی طرف نہ دیکھوں ، جو مجھ سے اوپر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے اور ان کے ساتھ رہنے کی تلقین کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حق بات کہنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ دوسرا شخص پیٹھ پھیر رہا ہو ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم پڑھتا رہوں گا ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن ابومنذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن ابومنذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 12127
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، لَا تَدْخُلَنَّ عَلَى أَمِيرٍ ، فَإِنْ غُلِبْتَ عَلَى ذَلِكَ فَلَا تُجَاوِزْ سُنَّتِي ، وَلَا تَخَافَنَّ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَطَاعَتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تم کسی امیر ( یا حکمران ) کے پاس نہ جانا اور اگر تم اس کے پاس چلے جاؤ ، تو میری سنت سے تجاوز نہ کرنا اور اس کی تلوار یا کوڑے سے اس حوالے سے خوف زدہ نہ ہونا کہ تم اُسے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اس کی فرمانبرداری کا حکم دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12128
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ وَيُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں کا خوف ، تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے ہرگز نہ روکے کہ وہ شخص جب حق کو دیکھے ، تو حق کے مطابق بات کرے ، یا وہ شخص کسی بڑے شخص ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرے ، کیونکہ یہ چیز نہ تو موت کو قریب کرتی ہے ، اور نہ ہی رزق کو دور کرتی ہے ، آدمی کو حق کے مطابق بات کہنی چاہیے اور بڑے ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرنی چاہیے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12129
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ مُوسَى قَالَ : يَا رَبِّ ، أَخْبِرْنِي بِأَكْرَمِ خَلْقِكَ عَلَيْكَ . فَقَالَ : الَّذِي يُسْرِعُ فِي هَوَايَ إِسْرَاعَ النَّسْرِ إِلَى مَثْوَاهُ ، وَالَّذِي تَكَلَّفَ بِعِبَادِي الصَّالِحِينَ كَمَا يُكَلَّفُ الصَّبِيُّ بِالنَّاسِ ، وَالَّذِي يَغْضَبُ إِذَا انْتُهِكَتْ مَحَارِمِي غَضَبَ النَّمِرِ لِنَفْسِهِ ، فَإِنَّ النَّمِرَ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُبَالِ أَقَلَّ النَّاسُ أَمْ كَثُرُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے بتا کہ تیرے نزدیک تیری مخلوق میں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو میرے حکم کی پیروی کے لئے اس طرح تیزی کرتا ہے ، جس طرح کوئی عقاب اپنے ٹھکانے کی طرف تیزی سے جاتا ہے اور وہ شخص جو میرے نیک بندوں کی بہ تکلف پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جس طرح بچے کو لوگوں کی پیروی کروائی جاتی ہے ، اور وہ شخص کہ جب میری کسی حرمت کی پامالی ہو رہی ہو ، تو وہ یوں غضبناک ہوتا ہے ، جس طرح کوئی چیتا اپنی ذات کے لئے غضبناک ہوتا ہے ، کیونکہ جب چیتا غضبناک ہو ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کم ہیں یا زیادہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12130
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن شہداء کے سردار سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہوں گے اور وہ شخص ہو گا ، جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو کر اسے نیکی کا حکم دے ، یا اسے برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اُسے قتل کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جو حدیث میں ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جو حدیث میں ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12131
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ حَمَاشَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ ، أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ ، وَمَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ عَلَى الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى وَيَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - تَعَالَى - فَإِنَّهُ مَنْ وَثِقَ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَضُرَّهُ مَسُّ الْأَذَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجعفر خطمی بیان کرتے ہیں : ان کے دادا سیدنا عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے بلوغت کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، اُنہوں نے اپنے بیٹے کو تلقین کی اور یہ کہا: ” اے میرے بیٹے ! تم بے وقوف لوگوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا ، کیونکہ ان کی ہمنشینی ، بیماری ہوتی ہے اور جو شخص بے وقوف شخص کے حوالے سے بردباری اختیار کرے ، وہ ٹھیک رہتا ہے ، جو شخص اُسے جواب دے وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے ، اور جو شخص بے وقوف کی لائی ہوئی تھوڑی چیز سے راضی نہیں ہوتا ، وہ زیادہ سے راضی ہو جاتا ہے ، اور جب تم میں سے کوئی شخص نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ، تو اپنے آپ کو تکلیف دہ چیز پر صبر کرنے کے لئے تیار کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب کی توقع رکھے ، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب پر یقین رکھے گا ، تو تکلیف کا پہنچنا اُسے نقصان نہیں دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12132
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنَّهُ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا . فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُوَنِي فَلَا أُجِيبُكُمْ وَتَسَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرُكُمْ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ أَحَدُ الْمَجَاهِيلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کو کوئی ناگوار صورت حال پیش آئی ہے ، آپ نے وضو کیا اور آپ نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی ، میں حجروں کے قریب ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور تم برائی سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا کرو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مانگو ، تو میں تمہیں عطا نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مدد مانگو ، تو میں تمہاری مدد نہ کروں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جو مجہول راویوں میں سے ایک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جو مجہول راویوں میں سے ایک ہے ۔
حدیث نمبر: 12133
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوَا اللَّهَ فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ وَقَبْلَ أَنْ تَسْتَغْفِرُوهُ فَلَا يَغْفِرُ لَكُمْ . إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ لَا يُقَرِّبُ أَجَلًا ، وَإِنَّ الْأَحْبَارَ مِنَ الْيَهُودِ وَالرُّهْبَانَ مِنَ النَّصَارَى لَمَّا تَرَكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ أَنْبِيَائِهِمْ وَعَمَّهُمُ الْبَلَاءُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے ، اس سے پہلے کہ تم اس سے مغفرت طلب کرو ، تو وہ تمہاری مغفرت قبول نہ کرے ، بے شک نیکی کا حکم دینا ، موت کو قریب نہیں کرتا ہے ، یہودیوں کے علماء اور عیسائیوں کے راہب ، جب اُنہوں نے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ترک کر دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے انبیاء کی زبانی اُن ( لوگوں ) پر لعنت کی اور آزمائش نے اُن سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12134
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلْتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، أَوْ لَيُسَلِّطَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارَكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یا تو تم لوگ نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ، یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کو تم پر مسلط کر دے گا اور پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے اور اُن کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔