کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آدمی کے اخلاق ( یا تخلیق ) کے حوالے سے ، ہر بندے سے فارغ ہوا جا چکا ہے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ زَالَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جو ہو گا ، اُسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو ، کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے ، تو اس بات کی تصدیق کرو اور جب تم کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ اپنے مخصوص اخلاق سے ہٹ گیا ہے ، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو ، کیونکہ وہ وہی کام کرے گا جو اس کی جبلت میں رکھا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَذَكَرَ الْقَوْمُ رَجُلًا فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَيَدُهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَرِجْلُهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر تم لوگ اس کا سر کاٹ دو ، تو کیا تم لوگ یہ استطاعت رکھتے ہو کہ اس سر کو دوبارہ اس کی جگہ پر لگا دو ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اس کے ہاتھ کے ساتھ ایسا کرو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اُس کے پاؤں کے ساتھ ایسا کرو ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم بھی یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اس کے اخلاق تبدیل کرو ، جب تک تم یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اُس کی ظاہری تخلیق تبدیل کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔