مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : فُرِغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خُلُقِهِ . باب: آدمی کے اخلاق ( یا تخلیق ) کے حوالے سے ، ہر بندے سے فارغ ہوا جا چکا ہے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ زَالَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جو ہو گا ، اُسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو ، کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے ، تو اس بات کی تصدیق کرو اور جب تم کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ اپنے مخصوص اخلاق سے ہٹ گیا ہے ، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو ، کیونکہ وہ وہی کام کرے گا جو اس کی جبلت میں رکھا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔