مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : فُرِغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خُلُقِهِ . باب: آدمی کے اخلاق ( یا تخلیق ) کے حوالے سے ، ہر بندے سے فارغ ہوا جا چکا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَذَكَرَ الْقَوْمُ رَجُلًا فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَيَدُهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَرِجْلُهُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر تم لوگ اس کا سر کاٹ دو ، تو کیا تم لوگ یہ استطاعت رکھتے ہو کہ اس سر کو دوبارہ اس کی جگہ پر لگا دو ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اس کے ہاتھ کے ساتھ ایسا کرو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اُس کے پاؤں کے ساتھ ایسا کرو ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم بھی یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اس کے اخلاق تبدیل کرو ، جب تک تم یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اُس کی ظاہری تخلیق تبدیل کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔