کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آدمی اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اپنے عمل کی آخری حد تک نہیں پہنچ جاتا
عَنْ أَبِي عُرْوَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدِهِ بِأَرْضٍ وَلَّى لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ قَبَضَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَقَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اسے اس علاقے میں کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیتا ہے ، جب آدمی اپنے مخصوص مقام تک پہنچ جاتا ہے ، تو وہ اُس کی روح کو قبض کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اسے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ حرشی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اسے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ حرشی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَ عَبْدًا بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً وَلَا تَنْتَهِي حَتَّى يَقْدَمَهَا " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ سُورَةِ لُقْمَانَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، حَتَّى خَتَمَهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس بندے کے لئے اس علاقے میں کوئی کام بنا دیتا ہے ، اور آخرکار بندہ اس علاقہ تک پہنچ جاتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت لقمان کے آخر میں موجود یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور رحم میں جو کچھ ہے ، وہ اُس کے بارے میں جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت تلاوت کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ غیب کی کنجیاں ہیں ، جنہیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ، اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ، اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جُعِلَتْ مَنِيَّةُ عَبْدٍ بِأَرْضٍ إِلَّا جُعِلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ فِي دَفْنِ كُلِّ مَيِّتٍ فِي التُّرْبَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی بندے کی موت ، کسی مخصوص سرزمین پر آنی ہو ، تو اس بندے کے لئے اُس جگہ پر کوئی کام بنا دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الجنائز میں گزر چکی ہے ، جن میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر میت کو اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے ، جس مٹی سے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الجنائز میں گزر چکی ہے ، جن میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر میت کو اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے ، جس مٹی سے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔