عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى ، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ : جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا ، پھر اُس نے ان پر اپنا نور ڈالا ، تو اُس دن جسے وہ نور ملا ، وہ ہدایت پا گیا ، اور جسے وہ نور نہیں ملا ، وہ گمراہ ہو گیا ، اس لئے میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ، قلم خشک ہو چکا ہے ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ " خَلَقَ خَلْقَهُ ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِي ظُلْمَةٍ ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ نُورِهِ مَا شَاءَ فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَصَابَ النُّورُ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصِيبَهُ ، وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ : جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ، پھر انہیں تاریکی میں رکھا ، پھر اس نے اپنا نور جو چاہا لیا اور وہ اُن لوگوں پر ڈالا ، تو جس کو اس نے چاہا ، اُس تک نور پہنچ گیا اور جس کو اس نے چاہا ، اس تک نور نہیں پہنچا ، اسی لئے میں یہ کہتا ہوں : جو کچھ ہونا ہے ، اُس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو استناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو استناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ حَتَّى أَنَاخَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَسِيرَةِ تِسْعٍ أَنْصَبْتُ بَدَنِي ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي لِأَسْأَلَكَ عَنْ خَلَّتَيْنِ أَسْهَرَتَانِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " ، قَالَ : أَنَا زَيْدُ الْخَيْلِ ، قَالَ : " بَلْ أَنْتَ زَيْدُ الْخَيْرِ " ، فَقَالَ : أَسْأَلُكَ عَنْ عَلَامَةِ اللَّهِ فِيمَنْ يُرِيدُ وَعَلَامَتِهِ فِيمَنْ لَا يُرِيدُ ، إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْرَ ، وَأَهْلَهُ ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِ ، وَإِنْ عَمِلْتُ بِهِ أَيْقَنْتُ ثَوَابَهُ ، فَإِنْ فَاتَنِي مِنْهُ شَيْءٌ حَنَنْتُ إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ عَلَامَةُ اللَّهِ فِيمَنْ يُرِيدُ وَعَلَامَةُ اللَّهِ فِيمَنْ لَا يُرِيدُ ، لَوْ أَرَادَكَ فِي الْأُخْرَى هَيَّأَكَ لَهَا ثُمَّ لَا تُبَالِي فِي أَيِّ وَادٍ سَلَكْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک سوار آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سواری کو بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نو دن کی مسافت طے کر کے آپ کے پاس آیا ہوں ، میں نے اپنے بدن کو تھکاوٹ کا شکار کر لیا ہے ، میں راتوں کو جاگتا رہا ہوں ، میں دن کو پیاسا رہا ہوں ، میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا ، جنہوں نے میری راتوں کی نیندیں چھین لی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں زید الخیل ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم زید الخیر ہو ، اس نے عرض کی : میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی علامت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ، جو اُس چیز کے بارے میں ہو ، جو وہ ارادہ کرتا ہے ، اور اس کی اس علامت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ، جو اس چیز کے بارے میں ہو ، جو وہ ارادہ نہیں کرتا ، میں بھلائی اور بھلائی کے اہل افراد سے محبت کرتا ہوں اور ان لوگوں سے بھی ، جو بھلائی پر عمل کرتے ہیں ، اگر میں اس پر عمل کروں گا ، تو میں اس کے ثواب کا یقین رکھوں گا اور اگر اس کے حوالے سے کوئی چیز مجھ سے رہ جاتی ہے ، تو میں اُس کے حوالے سے غمگین ہو جاؤں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کی علامت اُس چیز کے بارے میں ہے ، جو وہ ارادہ کرتا ہے اور جس چیز کا وہ ارادہ نہیں کرتا ، اُس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی علامت یہ ہے کہ اگر اس نے تمہارے لئے دوسری صورت حال کا ارادہ کیا ہوتا ، تو وہ دوسری صورت حال کو تمہارے لئے آسان کر دیتا ، اور پھر وہ اس بات کی پرواہ نہ کرتا کہ تم کون سی وادی میں ہلاکت کا شکار ہوتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔