کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی کے بارے میں ، اس کی ماں کے پیٹ میں ، کیا نوٹ کیا جاتا ہے ؟
حدیث نمبر: 11806
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ ؟ فَيُقَالُ لَهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَعْلَمُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ خُصَيْفٌ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب نطفہ رحم میں چالیس دن اور چالیس راتوں تک ٹھہرا رہتا ہے ، تو پھر اللہ تعالیٰ اُس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ فرشتہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کا رزق کتنا ہو گا ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، تو وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کی موت کب آئے گی ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، تو وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث ہو گا ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو اُسے بتایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (397/3)»
حدیث نمبر: 11807
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً ، ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ، ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ : أَيْ رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ ؟ نَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ ؟ قُوتُهُ ؟ أَجَلُهُ ؟ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ ؟ " ، قَالَ : " فَيُكْتَبُ ذَلِكَ كُلُّهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ ، فَقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ " ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيرِ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ ، وَزَادَ " ثُمَّ يَكْسُو اللَّهُ الْعِظَامَ لَحْمًا " ، وَقَالَ : " وَأَثَرُهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نطفہ رحم میں چالیس دن تک اسی حالت ( یعنی نطفے کی شکل میں ) رہتا ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں ، تو پھر یہ جما ہوا خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے ، پھر گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں اتنا ہی عرصہ رہتا ہے ، پھر ہڈیاں اتنے ہی عرصے میں بنتی ہیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے ، فرشتہ جو اس سے متعلق ہوتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث ؟ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ چھوٹے قد کا ہو گا یا لمبا ہو گا ؟ نقص والا ہو گا یا اضافی ہو گا ؟ اس کی قوت کیا ہو گی ؟ اس کو موت کب آئے گی ؟ کیا یہ تندرست ہو گا یا بیمار ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو یہ سب چیزیں وہ نوٹ کرتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ جب ہر حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کو اس چیز کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، علی بن زید نامی راوی خراب حافظے مالک ہے ، امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” معجم صغیر “ میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور پھر اللہ تعالیٰ اُس کی ہڈیوں کو گوشت پہنا دیتا ہے “ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اور اس کا اثر ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (442) اخرجه احمد فى المسند (374/1)»
حدیث نمبر: 11808
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ مُعْرِضًا : أَيْ رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لَاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ آگے آتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا ؟ یا مؤنث ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، پھر وہ فرشتہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ چیز لکھ دیتا ہے ، جس کا اسے سامنا کرنا ہو گا ، یہاں تک کہ جو کانٹا اُسے لگے گا ، وہ بھی لکھ دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2149) اخرجه ابو يعلى فى المسند (5775)»
حدیث نمبر: 11809
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بدنصیب وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدنصیب ہو ، اور خوش نصیب وہ ہے ، جو ماں کے پیٹ میں خوش نصیب ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (773) أخرجه البزار فى المسند (2150)»
حدیث نمبر: 11810
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ يَبْعَثُ مَلَكًا فَيَدْخُلُ الرَّحِمَ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَاذَا ؟ فَيَقُولُ : غُلَامٌ أَوْ جَارِيَةٌ ، أَوْ مَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ فِي الرَّحِمِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ شَقِيٌ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ ؟ مَا خَلَائِقُهُ ؟ فَيَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ ؟ فَيَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا خُلُقُهُ ؟ مَا خَلَائِقُهُ ؟ فَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْلَقُ مَعَهُ فِي الرَّحِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ مخلوق ( میں سے کسی ) کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو وہ فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ رحم میں داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی ، یا جو بھی اللہ تعالیٰ کو رحم میں پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے ، وہ پیدا فرماتا ہے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! کیا یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے ، بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ، فرشتہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اسے موت کب آئے گی ؟ اس کے اخلاق کیا ہوں گے ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اس اس طرح کے ہوں گے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کا رزق کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اتنا اتنا ہو گا ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کے اخلاق اور خلائق کیسے ہوں گے ؟ تو ہر ایک چیز رحم میں اس شخص کے ساتھ تخلیق ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10543)»
حدیث نمبر: 11811
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مُؤْمِنًا ، وَخَلَقَ فِرْعَوْنَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ كَافِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام کو اُن کی والدہ کے پیٹ میں مؤمن پیدا کیا گیا ، اور اُس نے فرعون کو اُس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔