کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 11815
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ أَمْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ ؟ قَالَ : " عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : عَنْ عَطَّافِ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَطَّافٌ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ فِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَجُلًا مُبْهَمًا لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم عمل ایک ایسے حساب سے کرتے ہیں ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا یہ نئے سرے سے پیدا ہونے والی کوئی چیز ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایسی چیز ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ عطاف بن خالد کے حوالے سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، عطاف نامی راوی کو یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام أحمد کے رجال میں ایک مہم شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (47) اخرجه احمد فى المسند (19)»
حدیث نمبر: 11816
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَقَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي أَمْرٍ مُبْتَدَإٍ [ أَوْ أَمْرٍ مُبْتَدَعٍ ] ؟ قَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَا نَتَّكِلُ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَيَعْمَلُ لِلشَّقَاوَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے پیدا ہونے والا معاملہ ہے ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر کیا ہم اُسی پر تکیہ نہ کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم عمل کرو ! ہر ایک کے لئے ( اس کی مخصوص چیز ) آسان کر دی جاتی ہے ، اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو گا ، تو وہ سعادت والے عمل کرے گا اور اگر وہ اہل شقاوت میں سے ہو گا ، تو وہ شقاوت والے عمل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (196)»
حدیث نمبر: 11817
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ نَسْتَأْنِفُهُ ؟ قَالَ : " بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " قَالُوا : فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَحَسَّنَ إِسْنَادُهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا اُس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر شخص کے لئے وہ چیز تیار کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی سند حسن ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے ، جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2138) اخرجه احمد فى المسند (441/6)»
حدیث نمبر: 11818
وَعَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِعَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا ؟ قَالَ : " [ اعْمَلُوا ] فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ ابْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذولحیہ رضی اللہ عنہ کلابی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے رونما ہونے والے کسی معاملے کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں ؟ یا یہ ایسا معاملہ ہے جس سے فارغ ہو جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت ابن أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11818
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4235) اخرجه احمد فى المسند (67/4)»
حدیث نمبر: 11819
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَشَيْءٌ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ مُسْتَأْنَفٌ ؟ قَالَ : " بَلْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا وہ ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے رونما ہونے والی کسی چیز کے حوالے سے ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2137)»
حدیث نمبر: 11820
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ فِيمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ أَوْ شَيْءٌ نَأْتَنِفُهُ ؟ قَالَ : " بَلْ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلْ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَالَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : فَالْجِدُّ إِذًا ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے ، اور اس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے ، جسے ہم نئے سرے سے ایجاد کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ اس کے مطابق ہے ، جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے اور قلم اُس کے بارے میں خشک ہو چکا ہے ، اس شخص نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کہ حاضرین نے ایک دوسرے سے کہا: اب تو ہم بھرپور کوشش کریں گے “ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2179) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10899)»
حدیث نمبر: 11821
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا الَّتِي نَعْمَلُ أَمُؤَاخَذُونَ بِهَا عِنْدَ الْخَالِقِ ؟ خَيْرٌ فَخَيْرٌ ، وَشَرٌّ فَشَرٌّ ، أَوْ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ ؟ قَالَ : " يَا سُرَاقَةُ ، قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ " . قَالَ : فَعَلَامَ نَعْمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اعْمَلْ يَا سُرَاقَةُ ، فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . قَالَ سُرَاقَةُ : الْآنَ نَجْتَهِدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اعمال ، جو ہم کرتے ہیں ، اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ کیا ان کے حوالے سے خالق کے سامنے ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ کہ اگر اچھے عمل ہوئے ، تو اچھا انجام ہو گا اور اگر برے عمل ہوئے ، تو برا انجام ہو گا ، یا پھر یہ کوئی ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے طے ہو چکا ہے ، اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سراقہ ! اس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے آ چکا ہے اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سراقہ ! تم عمل کرو ! کیونکہ ہر عمل کرنے والے کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر تو ہم بھرپور کوشش کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11822
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ شَيْئًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ نَسْتَأْنِفُ الْعَمَلَ ؟ قَالَ : " بَلْ لِعَمَلٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لَهُ عَمَلُهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ الْجِدُّ الْآنَ الْجِدُّ " ، قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ عمل ایسا ہے کہ جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر ایک کے لئے اس کے مخصوص عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب بھرپور کوشش ہو گی ، اب بھرپور کوشش ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6593)»