کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک تم اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ثُمَّ نَسَخَتْهَا إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ يَعْنِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ كَانَ مَعَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک تم لوگ اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں تم اس میں وارد ہو گے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر درجہ ذیل آیت نے اس آیت کو منسوخ کر دیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی سبقت لے جا چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے “ ۔ اس سے مراد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہا السلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے جو انصار کا آزاد کردہ غلام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11177
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2234)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى : أَنَا أَخْصِمُ لَكُمْ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَيْسَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَهَذِهِ النَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا ، وَهَذِهِ بَنُو تَمِيمٍ تَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ ، فَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک تم لوگ اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں ، اور تم اس پر وارد ہو گے “ ۔ اس پر عبداللہ بن زبعری نے یہ کہا: میں اس حوالے سے تمہارے حق میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ بحث کروں گا ، پھر اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ پر یہ آیت نازل نہیں ہوئی ہے : ” بے شک تم لوگ اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں ، اور تم اس میں وارد ہو گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں اس نے کہا: یہ عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہودی سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ۔ بنوتمیم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں تو کیا یہ لوگ ( یعنی ان لوگوں کے معبود ) بھی جہنم میں جائیں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی سبقت لے جا چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12739)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا بَقِيَ فِي النَّارِ مَنْ يَخْلُدُ فِيهَا جُعِلُوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ - قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - فَلَا يَرَوْنَ أَحَدًا فِي النَّارِ يُعَذَّبُ غَيْرَهُمْ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جہنم میں وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے ، تو انہیں آگ کے بنے ہوئے تابوتوں میں رکھا جائے گا جس میں آگ کے بنے ہوئے داغنے والے آلات ہوں گے انہوں نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی اور پھر یہ بتایا کہ وہ یہ سمجھیں گے کہ جہنم میں ان کے علاوہ اور کسی کو کوئی عذاب نہیں ہو رہا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اس ( جہنم ) میں ان لوگوں کی چیخ و پکار ہو گی اور اس ( جہنم ) میں وہ لوگ کچھ اور نہیں سنیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9087)»