مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک تم اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہیں “
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا بَقِيَ فِي النَّارِ مَنْ يَخْلُدُ فِيهَا جُعِلُوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ - قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - فَلَا يَرَوْنَ أَحَدًا فِي النَّارِ يُعَذَّبُ غَيْرَهُمْ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جہنم میں وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے ، تو انہیں آگ کے بنے ہوئے تابوتوں میں رکھا جائے گا جس میں آگ کے بنے ہوئے داغنے والے آلات ہوں گے انہوں نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی اور پھر یہ بتایا کہ وہ یہ سمجھیں گے کہ جہنم میں ان کے علاوہ اور کسی کو کوئی عذاب نہیں ہو رہا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اس ( جہنم ) میں ان لوگوں کی چیخ و پکار ہو گی اور اس ( جہنم ) میں وہ لوگ کچھ اور نہیں سنیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔