مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک تم اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ثُمَّ نَسَخَتْهَا إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ يَعْنِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ كَانَ مَعَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک تم لوگ اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں تم اس میں وارد ہو گے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر درجہ ذیل آیت نے اس آیت کو منسوخ کر دیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی سبقت لے جا چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے “ ۔ اس سے مراد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہا السلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے جو انصار کا آزاد کردہ غلام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔