حدیث نمبر: 11180
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ قَالَ : مَنْ تَبِعَهُ كَانَ لَهُ رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُوفِيَ مِمَّا كَانَ يَبْلَى بِهِ سَائِرُ الْأُمَمِ مِنَ الْخَسْفِ وَالْمَسْخِ وَالْقَذْفِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ بِشُرُوطٍ فِيمَنْ يَرْوِي عَنْهُ ، وَقَالَ : إِنَّهُ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، وَالْمَسْعُودِيُّ قَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ہم نے تمہیں صرف تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جو شخص آپ کی پیروی کرے گا آپ دنیا اور آخرت میں اس کے لئے رحمت ہیں ، اور جو شخص آپ کی پیروری نہیں کرے گا ، تو اسے ان چیزوں سے محفوظ رکھا جائے گا جن میں دیگر امتوں کو مبتلا کیا گیا جس کا تعلق زمین میں دھنسنے مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ابن حبان نے اسے چند شرائط کے ہمراہ ثقہ قرار دیا ہے جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس سے روایت نقل کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں : یہ بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور مسعودی نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11180
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12358)»