حدیث نمبر: 11178
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى : أَنَا أَخْصِمُ لَكُمْ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَيْسَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَهَذِهِ النَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا ، وَهَذِهِ بَنُو تَمِيمٍ تَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ ، فَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک تم لوگ اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں ، اور تم اس پر وارد ہو گے “ ۔ اس پر عبداللہ بن زبعری نے یہ کہا: میں اس حوالے سے تمہارے حق میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ بحث کروں گا ، پھر اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ پر یہ آیت نازل نہیں ہوئی ہے : ” بے شک تم لوگ اور اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں ، اور تم اس میں وارد ہو گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں اس نے کہا: یہ عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہودی سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ۔ بنوتمیم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں تو کیا یہ لوگ ( یعنی ان لوگوں کے معبود ) بھی جہنم میں جائیں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی سبقت لے جا چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12739)»