کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا اور دیگر کا بیان “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَجِبْتُ لِصَبْرِ أَخِي يُوسُفَ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ . وَعَجِبْتُ لِصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ حَتَّى أُتِيَ لِيُخْرَجَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَبَادَرْتُ الْبَابَ ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي [ الْفَرَجَ ] مِنْ عَبْدٍ غَيْرِ اللَّهِ ، قَوْلُهُ : " اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنے بھائی سیدنا یوسف علیہ السلام کے صبر اور ان کے اخلاق پر حیرانگی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تاکہ خواب کی تعبیر بیان کی جائے تو اگر وہاں میں ہوتا میں نے یہ کام اس وقت تک نہیں کرنا تھا جب تک مجھے پہلے باہر نہ نکالا جاتا اور میں ان کے صبر اور اخلاق پر حیران ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب انہیں باہر لے جانے کے لئے پیغام آیا ، تو وہ نہیں نکلے جب تک انہوں نے اپنے بے گناہ ہونے کے بارے میں انہیں بتا نہیں دیا حالانکہ اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف لپکتا اور اگر وہ کلمہ نہ ہوتا تو وہ قید خانے میں ہی ٹھہرے رہتے جب انہوں نے اللہ کے علاوہ ایک بندے سے کشادگی چاہی تھی اور یہ کہا: تھا : ” تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید قرشی مکی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید قرشی مکی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلرَّسُولِ : مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو اس قاصد کے بارے میں ہے : ” ان عورتوں کا معاملہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ دیے تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو میں جواب دینے میں جلدی کرتا اور عذر تلاش نہ کرتا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔