کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں “
حدیث نمبر: 11089
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَانَ لِيَعْقُوبَ أَخٌ مُؤَاخٍ ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ : مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ ؟ وَمَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ ؟ فَقَالَ : أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي يَامِينَ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَمَا تَسْتَحِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي ؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ : إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ . فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو يَا يَعْقُوبُ . ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ : أَيْ رَبِّ أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي ، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانِي يُوسُفَ أَشُمُّهُ [ شَمَّةً ] قَبْلَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي يَا رَبِّ مَا شِئْتَ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ،إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ وَلْيَفْرَحْ قَلْبُكَ ، فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ ، فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ ، فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْمَسَاكِينُ ، وَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِيُوسُفَ مَا صَنَعُوا ؟ لِأَنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً فَأَتَاكُمْ مِسْكِينٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهَا . فَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْغَدَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : أَلَا مَنْ أَرَادَ الْغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبَ ، فَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ ، فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَاهِلِيِّ الْبَصْرِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا: بھائی تھا ایک دن اس نے ان سے دریافت کیا آپ کی بینائی کس وجہ سے رخصت ہو گئی اور آپ کی پشت کیوں خمیدہ ہو گئی تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میری بینائی کی رخصتی کا تعلق ہے ، تو وہ یوسف پر رونے کی وجہ سے رخصت ہوئی ہے ، اور جہاں تک میری پشت کے خمیدہ ہونے کا تعلق ہے ، تو وہ اپنے بیٹے یامین کے غم کی وجہ سے ہے سیدنا جبرائیل سیدنا یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے : اے یعقوب بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آئی کہ آپ میرے علاوہ کسی اور کے سامنے میری شکایت کریں تو سیدنا یعقوب علیہ السلام نے فرمایا : بے شک میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں تو سیدنا جبرائیل نے کہا: اے سیدنا یعقوب آپ جو شکایت کر رہے ہیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار ! کیا تجھے ایک بوڑھے آدمی پر رحم نہیں آتا تو نے میری بینائی رخصت کروا دی تو نے میری کمر خمیدہ کروا دی اب تو میرے پھولوں کو میری طرف لوٹا دے ۔ یوسف کو تاکہ میں مرنے سے پہلے اسے سونگھ لوں پھر اے میرے پروردگار ! تو میرے ساتھ جو چاہے گا وہ کرنا تو سیدنا جبرائیل ان کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا یعقوب اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم یہ خوشخبری حاصل کرو اور تمہارا دل خوش ہو جائے مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے اگر وہ دونوں مر چکے ہوتے تو تمہاری خاطر میں نے ان دونوں کو زندہ کر دینا تھا تم غریبوں کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ میرے بندوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب غریب لوگ ہیں ۔ تم جانتے ہو میں نے تمہاری بینائی کو کیوں رخصت کیا ، اور تمہاری کمر کو کیوں خمیدہ کیا ، اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ جو کیا ہے وہ کیوں کیا اس کی وجہ یہ ہے : تم نے ایک مرتبہ بکری ذبح کی تھی ایک مسکین تمہارے پاس آیا اس نے روزہ رکھا ہوا تھا تم لوگوں نے اس بکری کے گوشت میں سے اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیا راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد سیدنا یعقوب علیہ السلام جب بھی صبح کے وقت کھانا کھانے لگتے تھے ، تو منادی کو حکم دیتے تھے کہ ( وہ یہ اعلان کرے ) جس غریب نے ناشتہ کرنا ہے وہ آ کے سیدنا یعقوب کے ساتھ ناشتہ کر لے اور اگر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے روزہ رکھا ہوتا تھا ، تو وہ منادی کو حکم دیتے تھے وہ یہ اعلان کرتا تھا کہ جو غریب روزہ دار ہو وہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے ساتھ افطاری کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد محمد بن أحمد باہلی بصری کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11089
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (857)»