مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ وَغَيْرُ ذَلِكَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا اور دیگر کا بیان “
حدیث نمبر: 11088
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلرَّسُولِ : مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو اس قاصد کے بارے میں ہے : ” ان عورتوں کا معاملہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ دیے تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو میں جواب دینے میں جلدی کرتا اور عذر تلاش نہ کرتا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔