حدیث نمبر: 11087
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَجِبْتُ لِصَبْرِ أَخِي يُوسُفَ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ . وَعَجِبْتُ لِصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ حَتَّى أُتِيَ لِيُخْرَجَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَبَادَرْتُ الْبَابَ ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي [ الْفَرَجَ ] مِنْ عَبْدٍ غَيْرِ اللَّهِ ، قَوْلُهُ : " اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنے بھائی سیدنا یوسف علیہ السلام کے صبر اور ان کے اخلاق پر حیرانگی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تاکہ خواب کی تعبیر بیان کی جائے تو اگر وہاں میں ہوتا میں نے یہ کام اس وقت تک نہیں کرنا تھا جب تک مجھے پہلے باہر نہ نکالا جاتا اور میں ان کے صبر اور اخلاق پر حیران ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب انہیں باہر لے جانے کے لئے پیغام آیا ، تو وہ نہیں نکلے جب تک انہوں نے اپنے بے گناہ ہونے کے بارے میں انہیں بتا نہیں دیا حالانکہ اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف لپکتا اور اگر وہ کلمہ نہ ہوتا تو وہ قید خانے میں ہی ٹھہرے رہتے جب انہوں نے اللہ کے علاوہ ایک بندے سے کشادگی چاہی تھی اور یہ کہا: تھا : ” تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید قرشی مکی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11087
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11640)»