کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ قَالَ : امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ ؟ فَقَالَ : وَيْحَكَ ، لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ ، فَقَالَ : لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ . ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ ، بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ عُمَرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَرَفَعَ عُمَرُ يَدَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ وَلَا كَرَامَةً ، وَلَكِنْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " صَدَقَ عُمَرُ " ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْكَبِيرِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَإِسْنَادُ الْأَوْسَطِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ایک عورت اس کے پاس سودا کرنے کے لئے آئی وہ اسے لے کر ایک کوٹھڑی میں داخل ہوا اور صحبت کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ برا کام کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو شاید وہ کوئی ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا اس نے کہا: جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : شاید وہ ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا ، پھر انہوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی مانند ارشاد فرمایا : پھر وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کی خدمت میں یہ بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شاید وہ ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا ، پھر اس دوران قرآن کا یہ حکم نازل ہو گیا ۔ ” دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے ایک حصے میں نماز قائم کرو “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے لئے مخصوص ہے یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا جی نہیں تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں بلکہ یہ لوگوں کے لئے عمومی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بلند کیا ، اور اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا جی نہیں اللہ کی قسم ! کوئی کرامت نہیں ہے بلکہ یہ حکم لوگوں کے لئے عمومی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور معجم اوسط کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بلند کیا ، اور اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا جی نہیں اللہ کی قسم ! کوئی کرامت نہیں ہے بلکہ یہ حکم لوگوں کے لئے عمومی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور معجم اوسط کی سند ضعیف ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا ، فَقَالَ : ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ . فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي مُغِيبٌ ، فَتَرَكَهَا . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک عورت اس سے کوئی چیز خریدنے کے لئے آئی اس نے کہا: تم گودام میں داخل ہو جاؤ تاکہ میں وہ چیز تمہیں دے دوں عورت اندر داخل ہوئی تو اس شخص نے اس کا بوسہ لیا اور اسے ساتھ لگا لیا اس عورت نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو میں ایسی عورت ہوں کہ میرا شوہر موجود نہیں ہے ، تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ فَأَذِنَ لَهُ ، فَانْطَلَقَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ ، فَإِذَا بِالْمَرْأَةِ عَلَى غَدِيرِ مَاءٍ تَغْتَسِلُ ، فَلَمَّا جَلَسَ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ يُحَرِّكُ ذَكَرَهُ ، فَإِذَا بِهِ هُدْبَةُ ، فَقَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ - الْآيَةَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی اہلیہ تھی ان صاحب نے کسی کام کے سلسلے میں جانے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی وہ صاحب ایک بارش والے دن چلے گئے وہاں ایک عورت ایک کنویں کے پاس غسل کر رہی تھی جب وہ صاحب اس عورت کے پاس اتنا قریب ہو گئے جس طرح کوئی مرد صحبت کرتے وقت عورت کے پاس ہوتا ہے ، اور وہ اپنی شرمگاہ کو حرکت دینے لگے ، تو وہ شرمگاہ منتشر نہیں ہوئی وہ صاحب اٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم چار رکعت ادا کرو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” تم دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمْ أَرَ شَيْئًا أَحْسَنَ طَلَبًا وَلَا أَسْرَعَ إِدْرَاكًا مِنْ مُصِيبَةٍ حَدِيثَةٍ لِذَنْبٍ قَدِيمٍ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَمْرٍو النُّكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكَذَلِكَ أَبُوهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اس سے زیادہ اچھے طریقے سے پیچھا کرنے والی اور تیزی سے پہنچنے والی کوئی چیز نہیں دیکھی جتنی تیزی کے ساتھ نئی نیکی ، پرانے گناہ تک پہنچتی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحییٰ بن عمرو نکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے باپ کی بھی یہی حالت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحییٰ بن عمرو نکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے باپ کی بھی یہی حالت ہے ۔