مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “
حدیث نمبر: 11082
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمْ أَرَ شَيْئًا أَحْسَنَ طَلَبًا وَلَا أَسْرَعَ إِدْرَاكًا مِنْ مُصِيبَةٍ حَدِيثَةٍ لِذَنْبٍ قَدِيمٍ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَمْرٍو النُّكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكَذَلِكَ أَبُوهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اس سے زیادہ اچھے طریقے سے پیچھا کرنے والی اور تیزی سے پہنچنے والی کوئی چیز نہیں دیکھی جتنی تیزی کے ساتھ پرانے گناہ کی پاداش میں نئی مصیبت پہنچتی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحییٰ بن عمرو نکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے باپ کی بھی یہی حالت ہے ۔