مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم اپنے گھروں میں تین دن رہ لو “
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَسَلُوا نَبِيَّكُمْ عَنِ الْآيَاتِ ، هَؤُلَاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ نَاقَةً فَفَعَلَ ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا ، وَيَحْلِبُونَ مِنْ لَبَنِهَا مِثْلَ الَّذِي كَانُوا يُصِيبُونَ مِنْ غِبِّهَا ، ثُمَّ تَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَقَرُوهَا ، فَأَجَّلَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَكَانَ وَعْدُ اللَّهِ غَيْرَ مَكْذُوبٍ ، ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ ، فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : أَبُو رِغَالٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ مُخْتَصَرَةٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے دوران ہجر نامی بستی میں پہنچے تو آپ وہاں کھڑے ہوئے اور آپ نے وہاں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم اپنے نبی سے نشانیوں ( یعنی معجزات ) کے بارے میں درخواست نہ کرو یہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم ان لوگوں نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے ایک اونٹنی کو بھجوائیں انہوں نے ایسا کر دیا وہ اس راستے سے آتی تھی اور اپنی آمد کے مخصوص دن ان لوگوں کا پانی پیا کرتی تھی یہ لوگ اس کا دودھ دوہ لیتے تھے جو اتنا ہوتا تھا ، جو وقفے والے دن میں کام آ سکے ، پھر وہ اس راستے سے واپس چلی جاتی تھی ، تو ان لوگوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تین دن کی مہلت دی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا پھر ایک چنگھاڑ نے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لیا اور ان میں سے آسمان اور زمین کے درمیان جتنے بھی لوگ تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاکت کا شکار کر دیا صرف ایک شخص بچا جو اللہ کے حرم کی حدود میں تھا ، تو اللہ کے حرم نے اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون شخص ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابورغال “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کے دوسرے طرق جو مختلف روایت کی شکل میں ہیں وہ غزوہ تبوک سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔