مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ فَأَذِنَ لَهُ ، فَانْطَلَقَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ ، فَإِذَا بِالْمَرْأَةِ عَلَى غَدِيرِ مَاءٍ تَغْتَسِلُ ، فَلَمَّا جَلَسَ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ يُحَرِّكُ ذَكَرَهُ ، فَإِذَا بِهِ هُدْبَةُ ، فَقَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ - الْآيَةَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی اہلیہ تھی ان صاحب نے کسی کام کے سلسلے میں جانے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی وہ صاحب ایک بارش والے دن چلے گئے وہاں ایک عورت ایک کنویں کے پاس غسل کر رہی تھی جب وہ صاحب اس عورت کے پاس اتنا قریب ہو گئے جس طرح کوئی مرد صحبت کرتے وقت عورت کے پاس ہوتا ہے ، اور وہ اپنی شرمگاہ کو حرکت دینے لگے ، تو وہ شرمگاہ منتشر نہیں ہوئی وہ صاحب اٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم چار رکعت ادا کرو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” تم دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔