مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تمہارا پروردگار کسی بستی کو ظلم کے طور پر ہلاکت کا شکار کرنے والا نہیں ہے جبکہ اس بستی کے رہنے والے لوگ بھلائی کرنے والے ہوں “
حدیث نمبر: 11083
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ قَالَ : وَأَهْلُهَا يُنْصِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ؛ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْكُوفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تمہارا پروردگار کسی بستی کو ظلم کے طور پر ہلاک کرنے والا نہیں ہے جبکہ وہاں کے رہنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں “ ۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : وہاں کے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم کوفی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔