کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جنایت کرنے والے یا قاتل کو ، معاف کر دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَمْ شَاءَ : مَنْ أَدَّى دَيْنًا خَفِيًّا ، وَعَفَا عَنْ قَاتِلِهِ ، وَقَرَأَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " . ¤ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ : أَوْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْ إِحْدَاهُنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں کر لے گا وہ جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا جنت میں داخل ہو جائے گا اور جتنی حورعین کے ساتھ چاہے گا اتنی کے ساتھ اس کی شادی کروا دی جائے گی جو شخص خفیہ ( یا پوشیده ) قرض کو ادا کر دے جو شخص اپنے قاتل کو معاف کر دے اور جو شخص ہر فرض نماز کے بعد سورت اخلاص پڑھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر کوئی ان میں سے ایک کام کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی ان میں سے کوئی ایک کام کرے ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ زَوَّجَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ يَعْنِي أَمَانَةً خَفِيَّةً شَهِيَّةً ، فَأَدَّاهَا مَخَافَةَ اللَّهِ ، أَوْ رَجُلٌ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ ، أَوْ رَجُلٌ قَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : جس شخص میں ( آگے آنے والی تین خوبیوں میں سے کوئی ایک بھی خوبی ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی شادی حورعین کے ساتھ کر دے گا ، جس شخص میں وہ موجود ہو ، یعنی ایسی امانت جو خفیہ بھی ہو اور آدمی کو اس میں دلچپسی بھی ہو ، اور وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ادا کر دے ، یا کوئی شخص ، اپنے قاتل کو معاف کر دے یا کوئی شخص ہر نماز کے بعد سورت اخلاص پڑھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ ابْنِ الصَّامِتِ - يَعْنِي عُبَادَةَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِلَفْظِ : " مَنْ تَصَدَّقَ بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ أُعْطِيَ بِقَدْرِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ " . وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اپنے جسم کے حوالے سے کوئی چیز صدقہ کر دے ( یعنی زیادتی کرنے والے کو معاف کر دے ) تو اسی حساب سے اس کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ ختم کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” جو شخص اپنے جسم کے حوالے سے کوئی چیز صدقہ کر دے ، تو جتنا اس نے صدقہ کیا ہے اسی حساب سے اسے ( مغفرت ) عطا کر دی جاتی ہے “ ۔ مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” جو شخص اپنے جسم کے حوالے سے کوئی چیز صدقہ کر دے ، تو جتنا اس نے صدقہ کیا ہے اسی حساب سے اسے ( مغفرت ) عطا کر دی جاتی ہے “ ۔ مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي نَفْسِهِ جِرَاحَةً ، فَيَتَصَدَّقُ بِهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کو کوئی زخم لگایا گیا ہو اور وہ اس کو صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو جتنا اس نے صدقہ کیا ہے اس حساب سے اللہ تعالٰی اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے “ ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أُصِيبَ فِي جَسَدِهِ بِشَيْءٍ فَتَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كَانَ كَفَّارَةً لَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ” جس شخص کو جسم میں کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اسے چھوڑ دے ، تو یہ چیز اس کے لئے کفارہ بن جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : هَشَّمَ رَجُلٌ فَمَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ مُعَاوِيَةَ ، فَأُعْطِيَ دِيَتَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أُعْطِيَ ثَلَاثًا . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ أَوْ دُونَهُ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ تَصَدَّقَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے منہ کو توڑ دیا ( یا زخمی کر دیا ) اسے اس کی دیت دی گئی تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ اسے تین دیے گئے تو اس شخص نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خون یا اس سے کم چیز صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو یہ اس شخص کے لئے اس کی پیدائش کے دن سے لے کر جس دن اس نے صدقہ کیا ہے ( یعنی معاف کیا ہے ) اس دن تک کے لئے ( تمام گناہوں کا ) کفارہ بن جائے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن ظبیان کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن ظبیان کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ أَخَاهُ قَيْسَ بْنَ مَعْبَدٍ وَجَارِيَةَ بْنَ ظَفَرٍ اقْتَتَلَا فِي مَرْعًى كَانَ بَيْنَهُمَا ، فَضَرَبَهُ جَارِيَةُ ضَرْبَةً ، وَضَرَبَهُ قَيْسٌ ضَرْبَةً ، فَأَبَتَّ يَدَهُ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا . ¤ قَالَ يَزِيدُ : فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَبْ لِي يَدَهُ تَأْتِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْضَاءَ سَلِيمَةً " . فَأَبَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُهُ " ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا يَزِيدُ هَبْ لِي عَقْلَهَا " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي الدِّيَةَ ، وَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ " . وَقَالَ لِجَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ : " خُذْهَا " . فَأَخَذَهَا يَزِيدُ فَكُنَّا نَعْرِفُ الْبَرَكَةَ فِينَا بِدَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن معبد بیان کرتے ہیں : ان کے بھائی قیس بن معبد اور جاریہ بن ظفر کے درمیان ایک چراگاہ کے بارے میں جھگڑا ہو گیا جو ان دونوں کے درمیان تھی ، تو انہوں نے یعنی جاریہ بن ظفر نے انہیں ایک ضرب لگائی اور قیس نے جاریہ کو ایک ضرب لگائی تو ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا ان دونوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا یزید نے کہا: ہم نکلے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ان دونوں نے پورا واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم اپنا ہاتھ اس کو ہبہ کر دو ( یعنی اس کو یہ زیادتی معاف کر دو ) قیامت کے دن وہ ہاتھ تمہارے پاس صحیح و سالم اور سفید ہو کر آئے گا ان صاحب نے یہ بات نہیں مانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے یزید تم اس کی دیت مجھے ہبہ کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ وہ آپ کی ہوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھے دیت دی آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے پھر آپ نے جاریہ بن ظفر سے فرمایا : تم اسے لے لو تو یزید نے وہ لے لی تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت اس میں جان لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔