مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ عَنِ الْجَانِي وَالْقَاتِلِ . باب: جنایت کرنے والے یا قاتل کو ، معاف کر دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : هَشَّمَ رَجُلٌ فَمَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ مُعَاوِيَةَ ، فَأُعْطِيَ دِيَتَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أُعْطِيَ ثَلَاثًا . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ أَوْ دُونَهُ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ تَصَدَّقَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے منہ کو توڑ دیا ( یا زخمی کر دیا ) اسے اس کی دیت دی گئی تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ اسے تین دیے گئے تو اس شخص نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خون یا اس سے کم چیز صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو یہ اس شخص کے لئے اس کی پیدائش کے دن سے لے کر جس دن اس نے صدقہ کیا ہے ( یعنی معاف کیا ہے ) اس دن تک کے لئے ( تمام گناہوں کا ) کفارہ بن جائے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن ظبیان کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔