مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ عَنِ الْجَانِي وَالْقَاتِلِ . باب: جنایت کرنے والے یا قاتل کو ، معاف کر دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ أَخَاهُ قَيْسَ بْنَ مَعْبَدٍ وَجَارِيَةَ بْنَ ظَفَرٍ اقْتَتَلَا فِي مَرْعًى كَانَ بَيْنَهُمَا ، فَضَرَبَهُ جَارِيَةُ ضَرْبَةً ، وَضَرَبَهُ قَيْسٌ ضَرْبَةً ، فَأَبَتَّ يَدَهُ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا . ¤ قَالَ يَزِيدُ : فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَبْ لِي يَدَهُ تَأْتِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْضَاءَ سَلِيمَةً " . فَأَبَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُهُ " ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا يَزِيدُ هَبْ لِي عَقْلَهَا " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي الدِّيَةَ ، وَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ " . وَقَالَ لِجَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ : " خُذْهَا " . فَأَخَذَهَا يَزِيدُ فَكُنَّا نَعْرِفُ الْبَرَكَةَ فِينَا بِدَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤یزید بن معبد بیان کرتے ہیں : ان کے بھائی قیس بن معبد اور جاریہ بن ظفر کے درمیان ایک چراگاہ کے بارے میں جھگڑا ہو گیا جو ان دونوں کے درمیان تھی ، تو انہوں نے یعنی جاریہ بن ظفر نے انہیں ایک ضرب لگائی اور قیس نے جاریہ کو ایک ضرب لگائی تو ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا ان دونوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا یزید نے کہا: ہم نکلے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ان دونوں نے پورا واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم اپنا ہاتھ اس کو ہبہ کر دو ( یعنی اس کو یہ زیادتی معاف کر دو ) قیامت کے دن وہ ہاتھ تمہارے پاس صحیح و سالم اور سفید ہو کر آئے گا ان صاحب نے یہ بات نہیں مانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے یزید تم اس کی دیت مجھے ہبہ کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ وہ آپ کی ہوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھے دیت دی آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے پھر آپ نے جاریہ بن ظفر سے فرمایا : تم اسے لے لو تو یزید نے وہ لے لی تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت اس میں جان لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔