مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ إِذَا عَفَا بَعْضُ الْأَوْلِيَاءِ . باب: جب اولیاء میں سے کوئی ایک معاف کر دے
عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا ، فَجَاءَ أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ ، وَقَدْ عَفَا أَحَدُهُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ : مَا تَقُولُ ؟ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَرَى أَنَّهُ قَدْ أُحْرِزَ مِنَ الْقَتْلِ ، قَالَ : فَضَرَبَ عَلَى كَتِفِهِ ، وَقَالَ : كَنِيفٌ مُلِئَ عِلْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنْ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص کا مقدمہ پیش کیا گیا جس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا مقتول کے ورثاء آئے ان میں سے ایک نے معاف کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں موجود تھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب ( قاتل کو ) قتل نہیں کیا جا سکتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور بولے : یہ علم سے بھرا ہوا برتن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ قتادہ نامی نے نہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ، اور نہ ہی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔